مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 78
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 78 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی جلسہ سالانہ برطانیہ کے اختتامی خطاب سے اقتباسات * حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اگست 2004ءکو جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر فرمایا:- 2005 ء تک کم از کم پچاس ہزار وصایا ہو جائیں بی وہ نظام ( وصیت۔ناقل ) ہے جو اس زمانے میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی یقین دہانی کرانے والا نظام ہے۔یہ وہ نظام ہے جو دین کی خاطر قربانیاں دینے والی جماعت کا نظام ہے۔اور یہ وہ جماعت ہے جود نیا میں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔پس ہر حدی غور کرے اور دیکھے کہ کس قدر فکر سے اور کوشش سے اس نظام میں شامل ہونا چاہیے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نیکی کے معیار وہاں تک نہیں پہنچے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس معیار کی شرائط کو پورا کرسکیں۔تو وہ سن لیں کہ یہ نظام ایک ایسا انقلابی نظام ہے کہ اگر نیک نیتی سے اس میں شامل ہوا جائے اور شامل ہونے کے بعد جیسا کہ آپ نے فرمایا اپنے اندر بہتری کی کوشش بھی کی جائے تو اس نظام کی برکت سے روحانی تبدیلی جو کئی سالوں کی مسافت ہے وہ دنوں میں اور دنوں کی گھنٹوں میں طے ہو جائے گی۔پس اپنی اصلاح کی خاطر بھی اس نظام میں احمدیوں کو شامل ہونا چاہیے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس نظام میں شامل ہونے والوں کے لیے جو دعائیں ہیں اُن سے حصہ لینا چاہیے۔$1905۔۔۔اس نظام کو قائم کئے 2005ء میں انشاء اللہ تعالیٰ ایک سو سال ہو جائیں گے۔میں آپ نے اسے جاری فرمایا تھا لیکن جیسا کہ متعدد جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کو خوشخبریاں دے چکے ہیں۔آپ نے جماعت پرحسن ظن فرمایا ہے کہ ایسے مومنین ملتے رہیں گے اور ضرور ملتے رہیں گے جو اس طرح اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی مالی قربانیاں پیش کرنے والے ہوں گے اور روحانیت میں بھی ترقی کرنے والے ہوں گے۔لیکن جس رفتار سے جماعت کے افراد کو اس نظام میں