مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 76

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 76 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی لڑائیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں ان سے بھی پر ہیز کریں ، اجتناب کریں۔اور زبان کی نرمی بڑی ضروری ہے۔اور دونوں مہمان بھی اور میزبان بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ نرم زبان کا استعمال ہو اور کسی بھی قسم کی تختی دونوں طرف سے نہیں ہونی چاہیے۔اور پیار سے، محبت سے ایک دوسرے سے ان دنوں پیش آئیں بلکہ ہمیشہ پیش آئیں اور خاص طور پر دعاؤں میں یہ دن گزاریں جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں۔اور جلسے کی جو خاص برکات ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔بعض دفعہ جہاں کھانا کھایا جاتا ہے وہاں لوگ اپنی پلیٹیں چھوڑ جاتے ہیں یا انہوں نے جو پیک بنائے ہیں وہ چھوڑ جاتے ہیں تو ان کو اٹھا کے جہاں ڈسٹ بن بنائے گئے ہیں وہاں پھینکیں۔حضرت مسیح موعود کے حوالے سے میں یہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ یہ جماعتی جلسہ ہے اس کو میلہ نہ سمجھیں کیونکہ آپس میں ملاقاتیں وغیرہ یا فیشن کا اظہار تو یہاں مقصود نہیں ہے۔عورتیں اکٹھی ہوں تو باتیں شروع کر دیتی ہیں اور پھر ختم نہیں ہوتیں۔ان کو بھی احتیاط کرنی چاہیے اور انتظامیہ اس کا خاص طور پر خیال رکھے اور نگرانی کرے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں بھی جلسے ہوتے ہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔بعض باہر سے آنے والے یہاں شاپنگ کرنے کے لیے قرض لینے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بات قناعت کی صفت کو گدلا کر رہی ہوتی ہے۔قناعت کی صفت میں ایسا اظہار ہورہا ہوتا ہے جو لوگوں کو اچھا نہیں لگتا۔تو اس سے بچنا چاہیے۔اتنا ہی خرچ کریں جتنی توفیق ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شاپنگ کرنے کے لیے جتنی ضرورت ہے رقم آپ کے پاس ہے اتنی شاپنگ کریں ، عزیزوں رشتہ داروں سے قرض نہ لیں۔یہ بڑا غلط طریقہ ہے۔جلسہ سننے کی غرض سے آتے ہیں تو جلسہ سننا چاہیے اور جو روحانی مائدہ یہاں تقسیم ہو رہا ہے اس سے ہر ایک کو اپنی جھولیاں بھرنی چاہئیں۔گو کہ یہی کہا جاتا ہے کہ مہمان نوازی تین دن کی ہوتی ہے لیکن بعض لوگ دور سے آ رہے ہوتے ہیں خرچ کر کے آرہے ہوتے ہیں اور پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ دوبارہ موقع مل سکے یا نہ مل سکے تو زیادہ ٹھہر نا چاہتے ہیں۔اگر اپنے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کے ہاں ٹھہر جائیں تو ان کو خوشی سے ٹھہرا لینے میں حرج نہیں ہے۔اور بعض طبیعتیں بڑی حساس ہوتی ہیں ایسے مہمانوں کو مذاقا بھی احساس نہیں دلانا چاہیے جو مالی لحاظ سے ذرا کم ہوں یا