مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 37
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 37 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی نہیں دیتے ، اور طالب علم کو کہہ دیا کہ تم میرے گھر آنا اور ٹیوشن پڑھو اور پھر ٹیوشن بھی اتنی لیتے ہیں کہ جو بعضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔امیر آدمی سے تو چلو لے لی لیکن بیچارے غریبوں کو بھی نہیں بخشتے اور اگر ٹیوشن نہ پڑھیں تو امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ اگر امتحان میں پاس ہونا ہے تو ٹیوشن پڑھو اور پھر بیچارے بعض لوگ ( ایسے طالب علم یا ان کے والدین ) اسی ٹیوشن کی وجہ سے مقروض ہو جاتے ہیں احمدی اساتذہ کو اس سے پر ہیز کرنا چاہیے اپنا ایک نمونہ دکھانا چاہیے اور جو علم اور فیض انہوں نے حاصل کیا ہے اس کو دوسروں تک پہنچانے میں کنجوسی اور بخل سے کام نہیں لینا حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم حاصل کرو، علم حاصل کرنے کے لیے وقار اور سکینت کو اپناؤ۔اور جس سے علم سیکھو اس کی تعظیم تکریم اور ادب سے پیش آؤ۔(الترغيب والترهيب جلد نمبر ۱ صفحه ۷۸ باب الترغيب فى اكرام العلماء واجلا لهم وتوقيرهم) تو اس میں طلبہ کے لیے نصیحت ہے کہ اپنے استاد کی عزت کرو، ایک وقار ہونا چاہیے۔احمدی طلبہ سٹرائکس (Strikes) میں حصہ نہ لیں آج کل مختلف ممالک میں طلبہ کی ہڑتالیں ہوتی ہیں تو ڑ پھوڑ ہوتی ہے، مطالبے منوانے کے لیے گلیوں میں نکل آتے ہیں ، مطالبہ یونیورسٹی یا کالج کا ہوتا ہے اور توڑ پھوڑ سڑکوں پر سٹریٹ لائٹس کی یا حکومت کی پراپرٹی کی یا عوام کی جائیدادوں کی ہو رہی ہوتی ہے ، دکانوں کو آ گئیں لگ رہی ہوتی ہیں۔تو یہ انتہائی غلط اور گھٹیا قسم کے طریقے ہیں۔اسلام کی تعلیم تو یہ نہیں ہے، طالبعلم علم حاصل کرتا ہے اس کے اندر تو ایک وقار پیدا ہونا چاہیے۔اور ادب اور احترام پیدا ہونا چاہیے اساتذہ کے لیے بھی ، اپنے بڑوں کے لیے بھی ، نہ کہ بد تمیزی کا رویہ اپنایا جائے۔پھر بعض دفعہ ہمارے احمدی اساتذہ کو سامنا کرنا پڑتا ہے یہ تو خیر میں ضمناً ذکر کر رہا ہوں کہ غیر احمدی طلبہ نے خود پڑھائی نہیں کی ہوتی فیل ہو جاتے ہیں اگر ان کا احمدی ٹیچر ہے یا احمدی استاد ہے تو فوراً اس کے خلاف وہاں ہڑتالیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس لحاظ سے بھی پاکستان میں بعض اساتذہ بڑی مشکل میں ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی ایسے طلباء کو عقل دے اور احمدی طلباء کو بھی چاہیے کہ ایسی سٹرائکس (Strikes) میں جو یو نیورسٹیوں اور کالجوں میں ہوتی ہیں ،کبھی