مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 16

16 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ہوئی کہ ہوئی، ایک قانون پاس کر دیا کہ ہم ان کو غیر مسلم قرار دے دیں گے تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔کئی شہید کئے گئے ، جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔کاروبارلوٹے گئے ، گھروں کو آگئیں لگا دی گئیں، دکانوں کو آگیں لگا دی گئیں، کارخانوں کو آگئیں لگا دی گئیں۔لیکن ہوا کیا ؟ کیا احمدیت ختم ہو گئی۔پہلے سے بڑھ کر اس کا قدم اور تیز ہو گیا، باپ کو بیٹے کے سامنے قتل کیا گیا، بیٹے کو باپ کے سامنے قتل کیا تو کیا خاندان کے باقی افراد نے احمدیت چھوڑ دی؟۔ان میں اور زیادہ ثبات قدم پیدا ہوا، ان میں اور زیادہ اخلاص پیدا ہوا۔ان میں اور زیادہ جماعت کے ساتھ تعلق پیدا ہوا۔دشمن کی کوئی بھی تدبیر کبھی بھی کارگر نہیں ہوئی اور کبھی کسی کے ایمان میں لغزش نہیں آئی۔اور پھر اب دیکھیں کہ ان نیکیوں پر قائم رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جو جانی نقصان ہوا یا جن خاندانوں کو اپنے پیاروں کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا، اگلے جہان میں تو اللہ تعالیٰ نے جزا دینی ہے اللہ نے اُن کو اس دنیا میں بھی بے انتہا نوازا ہے۔مالی لحاظ سے بھی اور ایمان کے لحاظ سے بھی۔جو پاکستان میں رہے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے کاروباروں میں برکت دی۔کئی لوگ ملتے ہیں جن کے ہزاروں کے کاروبار تھے اب لاکھوں میں پہنچے ہوئے ہیں۔جن کے لاکھوں کے کاروبار تباہ کئے گئے تھے ان کے کاروبار کروڑوں میں پہنچے ہوئے ہیں اور آپ لوگ بھی جو یہاں نکلے، اسی وجہ سے نکلے ، آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی لیے نکلنے کا موقع دیا کہ جماعت پر پاکستان میں تنگیاں اور سختیاں تھیں اور یہاں آ کے اگر نظر کریں پچھلے حالات میں اور اب کے حالات میں تو آپ کو خود نظر آ جائے گا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کے کتنے فضل ہوئے ہیں۔مالی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کتنا آپ کو مضبوط کر دیا ہے۔اب اس کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ لوگ اس کے آگے مزید جھکیں اور اس کے عبادت گزار بنتے چلے جائیں۔اپنی نسلوں میں بھی یہ بات پیدا کریں کہ سب کچھ جو تم فیض پارہے ہو یہ اس سختی اور تگی کا فیض ہے جو جماعت پہ پاکستان میں تھی اور آج ہم اس کی وجہ سے کشائش میں بیٹھے ہوئے ہیں۔کیونکہ یہ ہمیشہ یادرکھیں کہ نیک اعمال بجالانے کی شرط قائم ہے اور ہر وقت قائم ہے۔خلافت رابعہ میں دشمنوں کی ناکامی پھر خلافت رابعہ کا دور آیا۔پھر دشمن نے کوشش کی کسی طرح فتنہ و فساد پیدا کیا جائے لیکن جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی ہوگئی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا۔انتخاب خلافت کے ان حالات کے بعد جو بڑی سختی کے چند دن یا ایک آدھ دن تھے دشمن نے جب وہ سکیم ناکام ہوتی دیکھی تو پھر دو