مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 14
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 14 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی پھر آپ فرماتے ہیں کہ : میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا تو اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکرلیں گی وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔(خلافت حقہ صفحہ 18 ) چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جس بھی حکومت نے ٹکر لی اس کے اپنے ٹکڑے ہو گئے۔اور پھر خلافت رابعہ میں بھی یہی نظارے ہمیں نظر آئے۔ایک اور جگہ حضرت خلیفہ ثانی نے چھٹی ساتویں خلافت تک کا بھی ذکر کیا ہوا ہے۔تقف تفصیل تو میں آگے بتا تا ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کے لیے قبول ہوگا۔یعنی انتخاب خلافت کمیٹی کے بارے میں۔اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہو گا اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا ، اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہوگا ، وہ بڑا ہو یا چھوٹا ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ( خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء) ہیں۔خلافت ثالثہ میں ہونے والی ترقیات کا ذکر پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی وفات کے بعد پھر اندرونی اور بیرونی دشمن تیز ہوا۔لیکن کیا ہوا ؟ کیا جماعت میں کوئی کمی ہوئی ؟ نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق پہلے سے بڑھ کر ترقیات کے دروازے کھولے۔مشنوں میں مزید توسیع ہوئی۔افریقہ میں بھی ، یورپ