مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 83
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 83 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اگست 2004 ء سے اقتباسات * قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ حَشِعُوْنَ۔وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكَوةِ فَعِلُوْنَ۔وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُوْنَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ - فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَدُوْنَ۔وَالَّذِيْنَ هُمْ لا مَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ۔وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَواتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَرِثُوْنَ الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خَلِدُوْنَ۔۔۔۔۔ان آیات میں بیان کیا گیا نیکیوں کو حاصل کرنے کا ہر درجہ کیونکہ ایک تفصیل چاہتا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی بڑی تفصیل سے تفسیر بیان فرمائی ہے۔ساروں کی تفصیل تو بیان نہیں ہو سکتی ، اس وقت میں نسبتاً ذرا تفصیل سے اس سیڑھی کے دوسرے درجے (سورة المومنون آیات (2 تا 12 یعنی { وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون } کے بارے میں کچھ کہوں گا۔لغویات تقویٰ میں روک بنتی ہیں لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغویات میں ڈوبنے کی یہ بیماری آجکل کچھ زیادہ جڑ پکڑ رہی ہے۔اور اسی وجہ سے یہ بیماری تقویٰ میں بھی روک بنتی ہے۔اور اس طرح غیر محسوس طور پر اس کا حملہ ہو رہا ہے کہ اس بیماری کی گرفت میں آنے کے بعد بھی انسان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس بیماری میں گرفتار ہے اور کیونکہ پورا معاشرہ ہر جگہ اور ہر علاقے میں ہر ملک میں اس بیماری میں مبتلا ہے اس لیے اس بیماری کے لپیٹ میں آ کر بھی پتہ نہیں لگتا کہ ہم اس بیماری میں گرفتار ہیں۔بعض قریبی عزیزوں کو بھی اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان لغویات کی وجہ سے ان کے حقوق متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔بیویاں بھی اس وقت شور مچاتی ہیں جب ان کے اور ان کے بچوں کے حقوق مارے جا رہے ہوں۔اس سے پہلے وہ بھی معاشرے