مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 82

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 82 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 6 اگست 2004 ء سے اقتباس * نظام خلافت اور نظام وصیت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔۔۔حضرت اقدس مسیح موعود نے رسالہ الوصیت میں دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد نظام خلافت کا اجراء اور دوسرے اپنی وفات پر آپ کو یہ فکر پیدا ہونا کہ ایسا نظام جاری کیا جائے جس سے افراد جماعت میں تقویٰ بھی پیدا ہو اور اس میں ترقی بھی ہو اور دوسرے مالی قربانی کا بھی ایسا نظام جاری ہو جائے جس سے کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے اور جماعت کی مالی ضروریات بھی باحسن پوری ہو سکیں۔اس لیے وصیت کا نظام جاری فرمایا تھا۔تو اس لحاظ سے میرے نزدیک۔۔۔۔۔نظام خلافت اور نظام وصیت کا بڑا گہرا تعلق ہے اور ضروری نہیں کہ ضروریات کے تحت پہلے خلفاء جس طرح تحریکات کرتے رہے ہیں ، آئندہ بھی اسی طرح مالی تحریکات ہوتی رہیں بلکہ نظام وصیت کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہیے کہ سو سال بعد تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں اور قربانیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں۔یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے پیدا ہوتے رہیں۔جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا ایک بہت بڑا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت کی نعمت کا شکر ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور کوئی احمدی بھی ناشکری کرنے والا نہ ہو۔کبھی دنیا داری میں اتنے محو نہ ہو جائیں کہ دین کو بھلا دیں۔الفضل انٹر نیشنل 20 تا 26 اگست 2004 ء