مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 7

7 مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی جمعہ نازل ہوئی جب آپ نے اس کی آیت وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ﴾ پڑھی جس کے معنے یہ ہیں کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی ان صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔تو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کا جواب نہ دیا۔اس آدمی نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی ہم میں بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اٹھ گیا تو ان لوگوں میں سے کچھ لوگ واپس لے آئیں گے۔یعنی آخرین سے مراد وہ زمانہ ہے جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور اس پر ایمان لانے والے ، اس کا قرب پانے والے، اس کی صحبت پانے والے صحابہ کا درجہ رکھیں گے۔پس جب ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور یہ زمانہ پانے کی توفیق عطا فرمائی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کا درجہ دیا ہے۔تو یہ بھی ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق خلافت علی منہاج نبوت بھی قائم رہے۔یہاں یہ وضاحت کر دی ہے جیسا کہ پہلے حدیث ( کی روشنی ) میں میں نے کہا کہ مسیح موعود کی خلافت عارضی نہیں ہے بلکہ یہ دائمی خلافت ہوگی۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس آیت کی کچھ وضاحت کرتا ہوں ، آپ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ) دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے، دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جوا خیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک