مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 169
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 169 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی جب آپ کو ہوش کی عمر آ جائے مثلاً سات سال کی عمر میں بچے کو نماز کے لیے کہنے کا حکم ہے۔دس سال کی عمر میں نماز فرض ہو جاتی ہے۔تو اس عمر سے اب بچے کو خود بھی احساس ہونا چاہیے اور والدین بھی ان کو یہ احساس دلوائیں کہ تم وقف ہو تم نے اپنی زندگی جماعت کے لیے پیش کی ہے۔تمہاری جو خواہشات ہیں وہ اب تمہاری نہیں رہیں بلکہ جماعت جس طرح کہے گی وہ تم نے کرنا ہے۔وقف نام ہے قربانی کا دوسرے ایک بہت بڑا جو ا حساس ہے وہ بچوں کو ماں باپ کی طرف سے یہ ڈالا جانا چاہیے کہ آپ نے وقف کیا ہے اور وقف نام ہے قربانی کا تو پہلے دن سے جب تک آپ اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے لیے قربانی نہیں دیں گے بڑے ہو کر آپ انسانیت کے لیے قربانی نہیں دے سکیں گے۔تو یہ بڑی ضروری چیز ہے اس بارے میں میں والدین کے سامنے زیادہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ بعض واقفین نو بچوں کو دوسرے بچوں سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں یا اس لیے کہ یہ جماعت کی پراپرٹی ہے ان کا زیادہ خیال رکھا جائے۔لیکن بعض دفعہ اسی سے عادتیں خراب ہو جاتی ہیں۔اس لیے والدین پہلے دن سے ہی بچوں کو سخت جانی کی ،Hardship کی عادت ڈالیں۔بچپن سے ہی سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہو پھر جس طرح حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ بچپن سے ہی سچ سے محبت ہو اور جھوٹ سے نفرت ہو۔ہلکا سا مذاق بھی، جو جھوٹ کی طرف لے جانے والا ہو بچوں سے نہیں کرنا چاہیے۔مثلاً حضور نے اپنے خطبہ میں اس کی مثال بھی دی تھی کہ کبھی بچے سے یہ مذاق بھی نہ کریں کہ بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے یا میرے ہاتھ میں فلاں چیز ہے، اس ہاتھ میں ہے کہ اُس ہاتھ میں ہے۔جبکہ دونوں ہاتھوں میں کچھ بھی نہ ہو تو بچے کو اس سے بھی جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔یہ ہلکا سا ادنی سا مذاق ہے۔اس کو ادنی مذاق نہ سمجھیں۔اس سے بھی تربیت پر برا اثر پڑتا ہے تو واقفین نو بچوں کی اٹھان ، والدین کا بھی فرض ہے کہ انہوں نے پہلے دن سے تو کرنی ہے، سات سال اور دس سال کی عمر کے بعد، بہت سارے بچے دس سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، اب آپ کا بھی فرض ہے کہ آپ کو جھوٹ سے بالکل نفرت ہو، ہلکا سا جھوٹ بھی برداشت نہ ہو سکے اور سچ سے ایسی محبت ہو جائے جیسی کسی بھی اچھی چیز سے آپ کو ہوسکتی ہے، ( جیسے ) ماں باپ سے۔