مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 141
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 141 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی کی باریک راہوں پر چلنے والا سوچتا ہے تو پھر تو اس کی یہ سوچ کر ہی روح فنا ہو جاتی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔لیکن نصیحت کیونکہ فائدہ دیتی ہے جیسا کہ میں نے کہا باتوں سے اور جگالی کرتے رہنے سے یاددہانی ہوتی رہتی ہے۔بعض باتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ مزید ذرا وضاحت کھول کر کر دی جائے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ عہدیدار اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم فرمایا ہے کہ {وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ } (آل عمران : 135 ) یعنی غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہوں۔تو اس کے سب سے زیادہ مخاطب عہد یداروں کو اپنے آپ کو سمجھنا چاہیے۔کیونکہ ان کی جماعت میں جو پوزیشن ہے جو ان کا نمونہ جماعت کے سامنے ہونا چاہیے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنا ئیں۔اگر اصلاح کی خاطر کبھی غصے کا اظہار کرنے کی ضرورت پیش بھی آ جائے تو علیحدگی میں جس کی اصلاح کرنی مقصود ہو ، جس کا سمجھانا مقصود ہو اس کو سمجھا دینا چاہیے۔تمام لوگوں کے سامنے کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے اور ہر وقت چڑ چڑے پن کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔یا کسی بھی قسم کے تکبر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔اصلاح کبھی چڑنے سے نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی سے در در کھتے ہوئے اور دعا کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جانے سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔اور ایک آدھ دفعہ کی جو غلطی ہے، اگر کوئی عادی نہیں ہے تو اصلاح کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ عفو سے کام لیا جائے۔معاف کر دیا جائے ، درگزر کر دیا جائے۔اس لیے یہاں بھی ( مراد فرانس میں ) اور دنیا میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں ، جماعتی عہدیدار بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنے رویوں میں ایک تبدیلی پیدا کریں۔لوگوں سے پیارا اور محبت کا سلوک کیا کریں۔خاص طور پر بعض جگہ لجنہ کی طرف سے شکایات زیادہ ہوتی ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر بچیوں یا نوجوان بچیوں اور نئے آنے والیوں جنہوں نے نظام کو پوری طرح سمجھا نہیں ہوتا ، ان کے لیے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس لیے ان کے لیے بہت خیال رکھنا چاہیے۔کیونکہ تربیت کرنے کی جیسی آپ چھاپ لگا دیں گے بچوں پر بھی اور نئے آنے والوں پر بھی۔آئندہ نمونہ بھی ویسے ہی نکلیں گے ، آئندہ عہدیدار بھی ویسے ہی بنیں گے۔تو خلاصہ یہ کہ غصے کو دبانا ہے