مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 138

138 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ہے کہ یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے در میان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے یقیناً اللہ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔پہلی بات تو یہ کہ عہدیدار چنے والوں کو فرمایا کہ عہدے اُن کو دو، اُن لوگوں کو منتخب کرو جو اس کے اہل ہوں۔اس قابل ہوں کہ جس کام کے لیے انہیں منتخب کر رہے ہو وہ اس کو کر سکیں ، وقت دے سکیں۔یہ نہیں کہ چونکہ تمہارے تعلقات ہیں ، اس لیے ضرور اس عہدے کے لیے اسی کو منتخب کرنا ہے یا ضرور اسی کو اس عہدے کے لیے ووٹ دینا ہے۔اس میں ایک بہت بڑی ذمہ داری چناؤ کرنے والوں پر منتخب کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔اس لیے جو ووٹ دینے کے جماعتی قواعد کے تحت حقدار ہیں ، ہر ممبر تو ووٹ نہیں دیتا۔جو بھی ووٹ دینے کا حقدار ہے ان کو ہمیشہ دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہیے کہ جو بہتر ہو اس کو ووٹ دے سکے۔یہاں ضمنا یہ بھی بتا دوں کہ بعض دفعہ بعض افراد پر کسی وجہ سے پابندی لگی ہوتی ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔اس لیے اس بارے میں ضد نہیں کرنی چاہیے کہ کیونکہ ہمارے نزدیک فلاں شخص ہی اس کام کے لیے موزوں تھا یا موزوں ہے اس لیے اسی کو ہم نے ووٹ دینا تھا اور اس کی اجازت دی جائے ورنہ ہم انتخاب میں شامل نہیں ہوتے۔یہ غلط طریق ہے۔اطاعت کا تقاضا یہ ہے اور نظام جماعت کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی فیصلہ ہو گیا ہے کہ کسی شخص کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر اس بارے میں اصرار نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔میں نے آج اس مضمون کو لیا ہے تا کہ کمزوروں کی اصلاح بھی ہو جائے اور نو مبائعین کی تربیت بھی ہو جائے اور ساتھ ہی ان کمزور لوگوں کے لیے جماعت کے لوگ دعا بھی کر سکیں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمانوں میں مضبوطی عطا فرمائے۔تو بہر حال میں یہ بتا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام احباب جماعت پر جن کو حسب قواعد چناؤ کا انتخابات میں حق دیا گیا ہے یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ سوچ سمجھ کر اہل کو منتخب کرو۔جماعتی عہدہ کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے منتخب کرنے والوں کے اور جو منتخب ہورہے ہیں ان کے بھی ، بعض دفعہ لمبا