مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 94
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 94 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی والی نہ ہو۔جب یہ معیار حاصل کر لو گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ انفرادی طور پر تمہارے ایمانوں میں ترقی ہو گی اور جماعتی طور پر بھی مضبوط ہوتے چلے جاؤ گے۔بعض لوگ ذاتی جھگڑوں میں نظام جماعت کے فیصلوں کا پاس نہیں کرتے یا ان فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقوں سے اختلاف کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں اور اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا۔یہ وعدہ دیا ہوا ہے کہ نُصِرْتَ بِالرُّعْبِب۔کہ آپ کے رعب کے قائم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ خود ہی مدد کے سامان پیدا فرماتا رہے گا ، خود ہی مدد کرے گا۔پس جو لوگ جماعت میں شامل رہیں گے، جماعت کے نظام کی اطاعت کریں گے ان کا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے چمٹے رہنے کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ رعب قائم رہے گا۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ اطاعت میں ہی برکت ہے اور اطاعت میں ہی کامیابی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس شرط پر کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے آسانی میں بھی اور تنگی میں بھی ، خوشی میں بھی اور رنج میں بھی اور ہم اولو الامر سے نہیں جھگڑیں گے۔اور جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے حق پر قائم رہیں گے۔اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء) تنگی ہو یا آسانی نظام جماعت کی اطاعت کریں تو پہلی بات تو یہی کہ جب بیعت کر لی تو پھر جو کچھ بھی احکام ہوں گے تو ہم کامل اطاعت کریں گے۔یہ نہیں کہ جب ہماری مرضی کے فیصلے ہو رہے ہوں تو ہم مانیں گے، ہمارے جیسا اطاعت گزار کوئی نہیں ہوگا۔اور اگر کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف ہو گیا ہے جس سے ہم پر تنگی وارد ہوئی تو اطاعت سے باہر نکل جائیں ، نظام جماعت کے خلاف بولنا شروع کر دیں۔نہیں، بلکہ جو بھی صورت ہوفر مایا کہ تنگی ہو یا آسانی ہو ہم نظام جماعت کے فیصلوں کی مکمل اطاعت کریں گے اور نظام سے ہی چھٹے رہیں گے۔۔۔۔۔۔بعض لوگ ، لوگوں میں بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ نظام نے یہ فیصلہ کیا فلاں کے حق میں اور