مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 84

84 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم کی روشنی کا نام دے کر اپنے خاوندوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہوتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ خود بھی ان لغویات میں شامل ہورہی ہوتی ہیں تو اسی طرح ماں باپ ، دوست احباب اس وقت تک کچھ توجہ نہیں دیتے جب تک پانی سر سے اونچا نہیں ہو جاتا۔نظام جماعت کو بھی پتہ نہیں لگ رہا ہوتا جب تک کسی دوست یا عزیز رشتہ دار کی طرف سے یہ نہ پتہ چل جائے کہ لغویات میں مبتلا ہے۔بظاہر ایک شخص ( بیت الذکر ) میں بھی آ رہا ہوتا ہے اور جماعتی خدمات بھی بجالا رہا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بعض قسم کی غلط حرکتوں میں لغویات میں بھی مبتلا ہوتا ہے اس لیے یہ نہایت اہم مضمون ہے جس پر کچھ کہنا ضروری ہے۔لغو کی تشریح جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض لوگ بعض باتیں اور حرکتیں ایسی کر رہے ہوتے ہیں جو اُن کے نزدیک کوئی برائی نہیں ہوتی حالانکہ وہ لغویات میں شمار ہو رہی ہوتی ہیں اور نیکیوں سے دور لے جانے والی ہوتی ہیں۔اور بعض دفعہ جائز بات بھی غلط موقع پر لغو ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول ( نور اللہ مرقدہ) فرماتے ہیں کہ : ” اللغو میں کل باطل ، کل معاصی ، لغو میں داخل ہیں ، تاش، گنجوفہ چوسر سب ممنوع ہیں۔گئیں ہانکنا، نکتہ چینیاں وغیرہ۔“ حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ (171) مشینیں یعنی ہر قسم کا جھوٹ غلط اور گناہ کی باتیں، تاش کھیلنا ، اس قسم کی اور کھیلیں۔آجکل دکانوں پر مش پڑی ہوتی ہیں چھوٹے بچوں کو جوئے کی عادت ڈالنے کے لیے ، رقم ڈالنے کے بعد بعض نمبروں کی گیمیں ہوتی ہیں کہ یہ ملاؤ ، اتنے پیسے ڈالو تو اتنے پیسے نکل آئیں گے تو اس طرح جیتنے سے اتنی بڑی رقم حاصل ہو جائے گی، یہ سب لغو چیزیں ہیں۔اسی طرح بیٹھ کر مجلسیں جمانا، گپیں ہانکنا، پھر دوسروں پر بیٹھ کے اعتراض وغیرہ کرنا یہ سب ایسی باتیں ہیں جو لغویات میں شامل ہیں۔یہاں جلسوں پر آتے ہیں خطبہ جمعہ سنتے ہیں، نمازوں میں کبھی کبھی بڑا ذوق شوق بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ جو لغو تعلقات ہیں یہ تمہارے گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں۔ان مجلسوں ، اجتماعوں اور نمازوں کے بعد تمہارے دل پر جو اثر ہوتا ہے اس کی وجہ سے تم نیکیوں کے راستے اختیار کرنا چاہتے ہو۔لیکن یہ جو لغو تعلقات ہیں ، یہ فضول قسم کے جو لوگ ہیں اور فضول قسم کے لوگوں کی جو دوستیاں ہیں یہ تمہیں پھر واپس