مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 170
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 170 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بچوں میں خوش مزاجی ہو پھر ایک بہت بڑی بات بچوں کے لیے خوش مزاجی ہے۔یعنی ہر وقت آپ کی جو طبیعت ہے اس میں خوشی رہے بعض بچے چڑ چڑے ہو جاتے ہیں تو ماں باپ بھی خیال رکھیں کہ کس طرح ان کی تربیت کرنی ہے۔بلا وجہ بچوں کو ضدی نہ بنائیں اور ضدی بنایا جاتا ہے اس طرح کہ پہلے ایک بچہ کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے کوئی چیز مانگتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں اور پھر جب وہ زیادہ ضد کرتا ہے تو تھوڑی سی سزا دے کر اس کی وہ ضد بھی پوری کر دیتے ہیں یا اس کے رونے دھونے کو دیکھ کر بغیر سزا کے ہی ضد پوری کر دیتے ہیں تو بچہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ اب ہر بات میں ، میں نے جو چیز لینی ہے وہ ضد کر کے اور روکر ہی لینی ہے اور اس سے پھر بد مزاجی پیدا ہو جاتی ہے تو اس طرف بھی ہمیں بہت توجہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس وقت والدین کی تعداد بھی ماشاء اللہ بچوں کی تعداد کے برابر ہی مجھے نظر آ رہی ہے اس لیے میں بڑوں کے لیے بھی ساتھ ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔تو ہمیشہ بچے جو دس سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ انہوں نے اپنے ساتھی بچوں سے کبھی نہیں لڑنا۔اگر بری بات ان میں دیکھتے ہیں تو خاموش ہو جائیں ، علیحدہ ہو جائیں۔آپ کے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں آپ کے اخلاق بہت اچھے اخلاق ہونے چاہئیں اس لیے اس کو ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ کے اخلاق اچھے ہوں گے تو پھر بڑے ہو کر آپ کا مزاج بھی ایسا اچھا بنے گا کہ لوگ خود بخود آپ کی طرف آئیں گے۔آپ میں دلچسپی لیں گے اور پھر اس طریقے سے آپ احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں گے لیکن اگر پہلے ہی رونے دھونے کی ، ایک دوسرے کو ماردھاڑ کی عادت پڑ گئی تو یہ عادت آہستہ آہستہ پکی ہوتی جائے گی اور بڑے ہو کر بھی یہی سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا حق لینا ہے، چاہے سختی سے یا کسی سے لڑ جھگڑ کے۔تو یہی میں آپ سے کہتا ہوں کہ اسی سے تو پھر آپ لوگوں کو اپنے سے دور ہٹالیں گے۔کوئی آپ کے قریب بھی نہیں آئے گا اور جب آپ کے قریب کوئی نہیں آئے گا تو پھر آپ احمدیت کا پیغام کس کو پہنچائیں گے؟ تو اس لیے ہمیشہ یہ عہد کر لیں آج وہ بچے جو میری بات سمجھ سکتے ہیں سات سال ، دس سال یا اوپر کے کہ ہم نے کسی سے نہیں لڑنا اپنے دوستوں سے بھی، کھیل کو د میں بھی نہیں لڑنا کھیل کے میدان میں بھی اگر