مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 146
146 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم تو دنیا کے لوگوں کی ذرا بھی پرواہ نہ کریں۔چاہے اپنوں کے چر کے ہوں یا غیروں کے چر کے ہوں جو بھی لگتے ہیں ان پر خدا کے آگے جھکیں۔آپ جماعتی نظام میں تعلیم و تربیت کے لیے ، دنیا کو ( دین حق ) کا پیغام پہنچانے کے لیے، خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔یہ آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خلیفہ وقت نے بہت سی ایسی باتوں پر آپ پر انحصار کیا ہوتا ہے جن پر بعض فیصلے ہوتے ہیں۔اس لیے اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہر دنیا وی اونچ نیچ کو دل سے نکال دیں اور یکسوئی سے وہ کام سرانجام دیں جو آپ کے سپرد کئے گئے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی خاطر یہ چر کے برداشت کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کی سہولت کیلیے سامان بھی پیدا فرماتا رہے گا۔ذہنی کوفت کو دور کرنے کے لیے سامان بھی فرماتا رہے گا۔مربیان کے گھروں میں بھی عہدیداروں کے رویوں کے متعلق بچوں کے سامنے کبھی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔اپنی بیویوں کو بھی سمجھا ئیں کہ واقف زندگی کی بیوی بھی وقف زندگی کی طرح ہی ہوتی ہے یا ہونی چاہیے یا یہ سوچ رکھنی چاہیے۔اس لیے ہر بات صبر اور حوصلے سے برداشت کرنی ہے۔اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانا ہے، اس کے حضور جھکنا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے گا۔عہد یدار پیار اور محبت کے پر پھیلائیں اب عہدیداروں کو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ لوگوں کے لیے پیار اور محبت کے پر پھیلا ئیں۔خلیفہ وقت نے آپ پر اعتماد کیا ہے۔اور آپ پر اعتماد کرتے ہوئے اس پیاری جماعت کو آپ کی نگرانی میں دیا۔ہے۔ان کا خیال رکھیں۔ہر ایک احمدی کو یہ احساس ہو کہ ہم محفوظ پروں کے نیچے ہیں۔ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔بعض عہد یدار میں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ان کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ پر عمل کرنا چاہیے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔(بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحك ) _تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔