مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 115

115 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ” جب تک انسان کامل طور پر تو حید پر کار بند نہیں ہوتا۔اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔نماز کی لذت اور سرور سے حاصل نہیں ہو سکتا۔مداراسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے نا پاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کا ملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذ بے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں“۔الحکم جلد 3 : 13 مورخہ 12 اپریل 1899 صفحہ 7) اسی طرح عبادت کی تفصیلات بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے کہ تم اس شخص سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہوا ایسی ہی محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک نفس ہو کر پر ہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی گزار و اور تم بری عادتوں سے پاک ہو کر باوفا اور با صفا زندگی بسر کرو اور یہ کہ خلق اللہ کے لیے بلا تکلف و تصنع بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ اور یہ کہ تم اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دکھ نہ دوا اور نہ کسی بات سے اس کے دل کو زخمی کرو بلکہ تم پر واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر لو اور جو کوئی ملنے کے لیے تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ نئے جوڑوں اور عمدہ لباس میں اور تم ہر شخص کو السلام علیکم کہ خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو اور (لوگوں کی ) غمخواری کے لیے ہر دم تیار کھڑے رہو۔( ترجمه از عربی عبارت۔اعجاز اسح صفحہ 166 ) پس میرے پیارے نو جوانو ! عبادت کے رنگوں سے اپنی جوانیاں رنگین کرو کہ یہی مردوں کا زیور ہے اور یہ بھی خوب یا درکھو کہ ان عبادات اور مجاہدات کے لیے اصل عمر بھی یہی تمہاری عمر ہے ، بانی مجلس خدام الاحمدیہ حضرت مصلح موعود نے بھی آپ نو جوانوں سے یہی توقع کی تھی جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔