مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 87
87 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم تو یہاں مزید کھول دیا کہ جھوٹ ایسی چھوٹی برائی نہیں ہے کہ کبھی کبھی بول لیا تو کوئی حرج نہیں۔یہ ایک ایسی حرکت ہے جو منافقت کی طرف لے جانے والی ہے۔ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو بڑی فکر کی حالت پیدا ہو جاتی ہے کہ ذراذراسی بات پر بعض دفعہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے یا مذاق میں یا کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، غلط بیانی سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔پھر وعدہ خلافی ہے یہ بھی جھوٹ کی ہی ایک قسم ہے۔قرض لے کر ٹال مٹول کر دیا وعدہ خلافی کرتے رہے، تو فیق ہوتے ہوئے بھی واپس کرنے کی نیت کیونکہ نہیں ہوتی اس لیے ٹالتے رہے۔پھر اس کے علاوہ بھی روزمرہ کے ایسے معاملات ہیں کہ جن میں انسان اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھتا۔پھر میاں بیوی کے بعض جھگڑے صرف اس لیے ہورہے ہوتے ہیں کہ بیوی کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ خاوند نے فلاں وعدہ کیا تھا پورا نہیں کیا۔مثلاً یہ وعدہ کر لیا کہ جب میں اپنے کام سے واپس آ جاؤں تو فلاں جگہ جائیں گے۔اس کو پورا نہیں کیا بلکہ واپس آ کے اپنے دوستوں کی مجلسوں میں گئیں مارنے کے لیے چلا گیا۔یا اس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آئندہ میرے ماں باپ سے حسن سلوک کرے گا یا کرے گی کیونکہ یہ عورت و مرد دونوں کی طرف سے ہوتا ہے اور پھر اس کو پورا نہیں کیا۔تو یہی چھوٹی چھوٹی وجہیں ہیں جو جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔جہاں تک اس کا تعلق ہے، ایک دوسرے کے رشتوں کا ، ماں باپ کا خیال رکھنا، یہ تو چیز ایسی ہے کہ یہ تو رحمی رشتوں کے زمرے میں آتا ہے۔ان سے تو ویسے ہی حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔وعدہ نہ بھی کیا ہو تو حکم ہے کہ حسن سلوک کرو۔پھر امانت میں خیانت کرنے والے ہیں کچھ عرصہ تو ایمانداری دکھا کے اپنی ایمانداری کا کسی پر رعب جما لیتے ہیں، اور اس کے بعد پھر خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں تو یہ تمام باتیں جھوٹ ہی کی قسم ہیں اور لغویات میں شمار ہوتی ہیں کیونکہ ہر وہ چیز جو شیطان کی طرف لے جانے والی ہے وہ لغو ہے۔بغیر پوچھے مشورہ نہ دیا جائے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بلا وجہ دوسروں کو مشورے دینے لگ جاتے ہیں۔کسی نے کوئی مشورہ نہ بھی پوچھا ہو تو عادتاً مشورہ دیتے ہیں یا بعض ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو کسی کی دل شکنی کا یا اس کے لیے مایوسی کا باعث بن جاتی ہے۔مثلاً کسی نے کار خریدی، کہ دیا یہ کار تو اچھی نہیں فلاں زیادہ اچھی ہے۔وہ بیچارہ پیسے خرچ کر کے ایک چیز لے آتا ہے اس پہ اعتراض کر دیا یا پھر اور اسی طرح کی چیز لی اس پہ اعتراض کر دیا۔اس کی وجہ سے