مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 36
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 36 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی نہیں سمجھنا چاہیے کہ عمر بڑی ہو گئی اب ہم علم حاصل نہیں کر سکتے۔ان کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھیں اس بارے میں پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں یہ سوچ کر نہ بیٹھ جائیں کہ اب ہمیں کس طرح علم حاصل ہوسکتا ہے۔اب ہم کس طرح اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں حافظہ بڑی عمر میں کمزور ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے ہمارے ایک استاد ہوتے تھے ، انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد قرآن کریم حفظ کیا اور ربوہ میں سائیکل کے ہینڈل پر قرآن کریم رکھا ہوتا تھا اور چلتے ہوئے پڑھتے رہتے تھے۔لیکن آج کل ربوہ میں رکشے اتنے ہو گئے ہیں اب اس طرح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پھر بزرگ ہسپتال پہنچے ہوں گے۔علم سکھانا ایک صدقہ جاریہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے بارے میں مختلف پیرائے میں جو ہمیں فرمایا وہ احادیث پیش کرتا ہوں ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرے۔اب مسلمانوں میں جو علم حاصل کرنے کی نسبت ہے وہ دوسروں کے مقابلے میں بہت تھوڑی ہے۔اور حکم ہمیں سب سے زیادہ ہے۔پھر ایک روایت میں ہے، ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔( سنن ابن ماجه كتاب الايمان باب ثواب معلم الناس الخير ) - تو یہ علم حاصل کرنے کی اہمیت ہے۔اور پھر اس کو سکھانے کی کہ یہ ایک صدقہ ہے اور صدقہ بھی ایسا ہے جو صدقہ جاریہ ہے کہ دوسروں کو علم سکھاؤ تو تمہاری طرف سے ایک جاری صدقہ شروع ہو جاتا ہے۔اساتذہ کی عزت کریں اور اساتذہ بھی نیک نمونہ دکھائیں اسی لیے اساتذہ کی عزت کا بھی اتنا حکم ہے کہ اگر ایک لفظ بھی کسی سے سیکھو تو اس کی عزت کرو۔اساتذہ کا بڑا معزز پیشہ ہے۔لیکن پاکستان وغیرہ میں اس کو بھی صرف آمدنی کا ذریعہ بنالیا گیا ہے اور یہ پیشہ بھی بدنام ہو رہا ہے۔ٹھیک ہے جائز طور پر ایک ملازم یہ پیشہ اختیار کرتا ہے اس کو تنخواہ ملتی ہے، کمانا چاہیے یا پھر ٹیوشن بھی لی جاسکتی ہے لیکن وہاں آج کل ہوتا یہ ہے کہ سکولوں میں پڑھانے کی طرف توجہ