مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 4

4 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم آسکتے ہیں۔تو ہر میدان میں ایک طرح ہمیں ضرورت ہے دونوں طرف کے لوگ۔اکثر فیلڈ (Field) ایسے ہیں جس میں دونوں طرح کے بچے شامل ہو چکے ہیں۔اس لیے مجھے یہ بتائیں کہ مجھے اگلے دس سال میں فکر ہے کہ کافی ہمیں ڈاکٹرز اور ٹیچرز کی ضرورت ہے۔پہلے وہ بچے ہاتھ کھڑا کریں جن کو یہ دلچسپی ہے کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔%25 ٹھیک ہے وہ لوگ جو ٹیچر بنا چاہتے ہیں؟ کوئی بھی نہیں۔اگر ہاتھ نہیں کھڑے کریں گے تو مجھے زبر دستی بنانا پڑے گا ساروں کو۔ان بچوں میں سے مجھے Teaching Line کے بچے بھی چاہئیں۔سمجھ آئی؟ اس لیے وہ بھی دلچسپی پیدا کریں جن کو دلچسپی ہو۔اور وکیل کتنے بننا چاہتے ہیں؟ Lawyer (وکیل) کتنے بننا چاہتے ہیں؟ اچھا۔(مربی) کتنے بننا چاہتے ہیں؟ ہاں یہ تسلی ہوگئی تھوڑی سی۔اچھا شاباش۔جتنے ڈاکٹر ہیں اتنے ہی (مربی) ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں وقف نو کی طرف بچوں کو بھیجنے کی طرف کافی توجہ پیدا ہورہی ہے اور میں، انچارج جو ہیں وقف نو کے، کل ہی ان سے بات کر رہا تھا کہ اس ایک سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے ان کو یہی کہا تھا مکمل پوری Figures مجھے بتا ئیں۔میرا اندازہ ہے جو درخواستیں میرے پاس آئی ہیں۔ماں باپ نے جو بچے اپنے وقف کیے ہیں وہ تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار تک ہیں جو ایک سال میں وقف ہوئے ہیں۔اس طرح انشاء اللہ تعالیٰ یہ تعداد تو بڑھے گی اور ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔لیکن آپ لوگ، آپ بچے جو دس سال کی عمر تک پہنچ چکے ہیں۔اور دس سال کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں بچوں کو سوچ لینا چاہیے۔اپنی سوچ Mature ( پختہ ) کرنی شروع کر دینی چاہیے۔کیونکہ نماز پڑھنی بھی یہاں فرض ہوگئی ہے، حکم دے دیا گیا ہے۔تو یہ چند باتیں میں کرتا ہوں اب اور جو فرسٹ آئے ہیں وہ بے چین ہوں گے اپنا انعام لینے کے لیے۔اپنے اپنے انعام لے لیں۔اور اس کے بعد دعا ہو گی پھر آپ فارغ ہیں۔اب ہم دعا کریں گے سب بچے دعا میں شامل ہو جائیں۔اور جو بچے چلڈرن کلاس میں یا وقف نو کلاس میں آتے ہیں۔خاص طور پر وقف نو کلاس کو۔میں نے بچوں کو کہا تھا کہ اگر آپ لوگوں نے زیادہ Prize( انعامات) نہ لیے تو میں کلاس بند کر دوں گا۔لیکن شکر ہے کہ اکثریت انہی بچوں کی ہے جنہوں نے انعام لیے ہیں۔اچھا اب دعا کر لیں۔(آمین ) { یہ خطاب غیر مطبوعہ ہے }