مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 140
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 140 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی کرے۔اللہ تعالیٰ ہر عہدیدار کو چاہے وہ جماعتی عہدیدار ہوں یا ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ذمہ داریاں نبھانے کے لیے دعا کرتے رہیں پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا افراد جماعت کو بھی اور عہدیداران کو بھی یہ توجہ دلائی ہے کہ اس کے بعد بھی دعاؤں میں لگے رہو۔ہر عہدیدارا انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ سے دعا مانگے کہ وہ اسے ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر فرد جماعت یہ دعا کرے کہ جو عہد یدار منتخب ہوئے ہیں وہ ہمیشہ اس امانت کے ادا کرنے کے حق کو اس کے مطابق ادا کرتے رہیں۔اور کبھی کوئی مشکل نہ آئے کبھی کوئی ابتلاء نہ آئے جو عہدیدار اور افراد جماعت کے لیے کسی بھی قسم کی ٹھوکر کا باعث بنے۔اگر اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے کہ یہ عہد یدار جو انہوں نے منتخب کیا ہے وہ پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا نہیں کر رہا تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایسے انتظامات فرمائے کہ اسے بدل دے تا کہ کبھی نظام جماعت پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس طرح دونوں مل کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس نیک نیت سے کی گئی دعاؤں کو سنے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کے لیے اور دین کی خدمت کرنے والوں پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔وہ بڑی گہری نظر رکھتا ہے۔وہ دیکھ رہا ہے ، وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ اس درد کی وجہ سے جو تمہارے دل میں ہے ہمیشہ بہتری کے سامان پیدا فرما تا رہے گا اور ہمیشہ تمہیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط رکھے گا۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر قسم کی ٹھوکر سے بچائے۔عہد یداران کا رویہ کس قسم کا ہونا چاہیے اب میں ذرا وضاحت سے عہدیداران کا احباب جماعت سے کس قسم کا رویہ یا سلوک ہونا چاہیے اس کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔اور پھر احباب جماعت ، افراد جماعت عہد یداروں سے کیسا رویہ رکھیں۔عہد یداروں کو تو ایک اصولی ہدایت قرآن نے دے دی ہے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے ہیں۔اگر کوئی غور کرے اور سوچے کہ انصاف کے کیا کیا تقاضے ہیں تو اس کے بعد کچھ بات رہ نہیں جاتی۔لیکن ہر کوئی اس طرح گہری نظر سے سوچتا نہیں۔اس طرح سوچا جائے جس طرح ایک تقویٰ