مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 113

113۔ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم پس خدام الاحمدیہ کو اپنے تربیت کے شعبہ کے تحت یہ بھی رپورٹ میں لکھنا چاہیے کہ باجماعت نمازوں کے ساتھ درسوں میں حاضری کی کیا صورت ہے۔اور پھر ہر مہینہ اس میں کیا بہتری پیدا ہو رہی ہے۔اگر یہ نہیں کرتے تو پھر آپ کے یہ عہد یہ دعوے اور یہ وعدے کس کام کے ہیں کہ خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنا ضروری سمجھوں گا اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کا ہے۔خلیفہ وقت تو اس حکم کو آگے پہنچانے کے لیے آواز استعمال کر رہا ہے اپنی۔اور یہ بیعت کرتے وقت بھی آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ کیا ہوا ہے۔پس غور کریں اور سوچیں کہ وعدہ پورا نہ کر کے جیسا کہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کتنا ڈرایا ہے، کتنا انذار فرمایا ہے کہ ایسے شخص میں منافقت کی رگ ہے جو وعدہ پورا نہیں کرتا۔اور یہ بات نہ کوئی احمدی پسند کرے گا اور نہ کسی احمدی کے بارے میں یہ بات پسند کی جاسکتی ہے۔احمدی نو جوانو اور بچو! اپنی عبادت اور اخلاق کے معیار بلند کرو پس اس بارے میں بھی خاص کوشش کر کے اس طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح معنوں میں خدام احمدیت بنائے۔صرف نعرے اور ترانے اور وعدے ہی نہ ہوں صرف ، بلکہ حقیقت میں آپ میں وہ کچھ نظر آئے جو ایک احمدی خادم میں نظر آنا چاہیے اور اگر آئندہ کیونکہ بچوں نے بھی سنبھالنا ہے، چھوٹی عمر کے خدام ہیں انہوں نے سنبھالنا ہے، جوں جوں جماعت نے انشاء اللہ پھیلنا ہے، یہ تبدیلیاں نہ کیں تو پھر جماعت تو ترقی کرے گی انشاء اللہ تعالیٰ لیکن آپ کے اپنے حلقوں میں آپ کو محرومی کا احساس ہونے لگ جائے گا۔کیونکہ آئندہ خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھنی ہیں ، جیسا کہ میں نے کہا ، جماعت کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ۔پس اپنی اس ذمہ داری کو سمجھیں۔اپنے مقام کو سمجھیں اور اگر آپ نے اپنے مقام کو سمجھ لیا، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیا تو پھر دشمن ہزار حربے استعمال کرے احمدیت کو ختم کرنے کے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔دشمن جتنا مرضی زور لگالے وہ جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پس احمدی نو جوا نو اور بچو! اٹھو اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کرو اور اپنے اخلاق کے معیار بھی بلند کرو۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق (ماہنامہ ” خالد نومبر 2004ء) عطا فرمائے۔