مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 65
مشعل راه جلد پنجم 65 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی جگہ تو یہی لگتی ہے لیکن یہاں سبزہ نہیں ہے ، Greenery نہیں ہے۔وہ امید ہے انشاء اللہ ہو جائے گی۔حضرت مصلح موعود نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بارے میں ربوہ کے لوگ بہت کوشش کر رہے ہیں۔خاص طور پر اطفال اور خدام نے بہت کوشش کی ہے۔انہوں نے وقار عمل کر کے، ربوہ کو آباد کرنے کی کوشش کی ہے۔لوگ آ کے حیران ہوتے ہیں۔آپ جیسی چھوٹی عمر کے بچوں نے وقار عمل کر کے وہاں پودے لگائے اور ان کو سنبھالا ہے۔تو اب میری بچوں سے یہی درخواست ہے یہی میں کہوں گا یہی نصیحت ہے کہ جو پورے آپ نے لگائے ہیں ان کی حفاظت کریں اور مزید پودے لگائیں۔درخت لگائیں، پھولوں کی کیاریاں بنائیں اور ر بوہ کو اس طرح سرسبز اور Lush Green ( شاداب) کردیں جس طرح حضرت مصلح موعود کی خواہش تھی۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ان پر عمل کریں ایک تو یہ کہ ربوہ کے ماحول کو سرسبز کریں گے تو ماحول پر ایک خوشگوار اثر ہوگا۔عمومی طور پر لوگوں کی توجہ ہوگی اور ایک نمونہ نظر آئے گا کہ یہاں کے بچے اور بڑے محنت سے اس شہر کو آباد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں باقی جگہوں پہ جب تک حکومت نہ مدد کرے کوئی اتناسبزہ نہیں کر سکتا بلکہ باوجود مدد کے بھی نہیں کر سکتا۔تو ربوہ کے بچوں کے لئے میری یہی نصیحت ہے کہ تین باتیں میں نے کہی ہیں۔ایک سلام کو رواج دیں، ایک ( بیوت الذکر میں زیادہ جائیں اور اپنے بڑوں کو بھی لے کر جائیں۔تیسری بات ربوہ میں مزید پودے لگا ئیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی بھی خواہش تھی کہ ربوہ میں ہر گھر تین پھلدار پودے لگائے تو حضور کی اس خواہش پر بھی عمل ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ گھروں سے باہر بھی حضرت مصلح موعود کی خواہش پر بھی عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ربوہ کو سرسبز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔جزاکم اللہ الفضل ربوہ 10 جون 2003ء)