مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 64

مشعل راه جلد پنجم 64 * ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 7 جون 2003ء کی چلڈرن کلاس میں ربوہ کے اطفال کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:- ربوہ کے بچے ماشاء اللہ آپ لوگوں کی طرح بہت ہی پیارے بچے ہیں۔ان کے بارے میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ احمدیوں کو سلام کو رواج دینا چاہیے یعنی ہر احمدی کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ ہر ملنے والے کو سلام کہے اور اس کیلئے حضرت صاحب نے قادیان کی مثال دی تھی کہ وہاں ہر بڑا چھوٹا سلام کہتا تھا اور ایک بہت پیارا اور محبت والا ماحول تھا۔تو عمومی طور پر حضرت صاحب نے سارے بچوں کو اور بڑوں کو یہ کہا تھا کہ جب آپس میں ملیں تو سلام کہیں ، خوش اخلاقی سے ملیں لیکن ربوہ کے بچوں کو خاص طور پر کہا تھا کہ وہاں کا ماحول ایسا ہے کہ سلام کی عادت ڈالیں۔تو ربوہ کے بچوں کے لئے یہی میرا پیغام ہے کہ ربوہ کے ماحول کو ایسا بنا دیں کہ ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آ رہی ہوں، بڑے بھی چھوٹے بھی بچے بھی۔بعض دفعہ بڑوں سے سستیاں ہو جاتی ہیں تو بچے اس کی پابندی کریں کہ انہوں نے بہر حال ہر ایک کو سلام کہنا ہے اور سلام کرنے میں پہل کرنی ہے تو اس طرح ربوہ کے ماحول پر بڑا خوشگوار اثر پڑے گا۔انشاء اللہ۔ایک تو یہ بات ہے۔دوسرے( بیوت الذکر ) کو آباد کرنے کے لئے جس طرح حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی خواہش تھی کہ بنی صدی میں ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے تو یہاں بھی آپ نمازیں پڑھنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور دیں۔ربوہ کے ماحول میں جو خالصہ احمدیت کا ماحول ہے بچوں کو چاہیے کہ اپنے بڑوں کو بھی توجہ دلائیں اور خود بھی خاص توجہ کریں اور (بیوت الذکر) میں زیادہ سے زیادہ جائیں اور ( بیوت الذکر ) کو آباد کر لیں تا کہ احمدیت کی فتح کے نظارے جو دعاؤں کے طفیل ہمیں انشاءاللہ ملنے ہیں ، وہ ہم جلدی دیکھیں۔ایک اور بات یہ ہے کہ یہاں پروگرام میں آپ نے سنا۔(وہاں شائد بچوں کو زیادہ سمجھ نہ آئی ہو کیونکہ انگلش میں تھا ) حضرت مصلح موعود کی خواہش تھی کہ میں نے رویا میں دیکھا تھا۔ربوہ کی زمین کے متعلق کہ باقی