مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 53
مشعل راه جلد پنجم 53 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی والوں کے لئے یہاں اجازت ہے۔اب ویسے تو مجلس کی باتیں امانت ہیں باہر نہیں نکلنی چاہئیں۔لیکن اگر نظام کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو یہاں اجازت ہے کہ چاہے وہ اگر نظام کے متعلق ہے یا نظام کے کسی عہد یدار کے متعلق ہیں اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس میں کئی اعتراض کے پہلوا بھر سکتے ہیں ، نکل سکتے ہیں تو اس کو افسران بالا تک پہنچانا چاہیے۔اور ایک حدیث میں اس کی اس طرح اجازت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجالس کی گفتگو امانت ہے سوائے تین مجالس کے۔ایسی مجالس جہاں خون بہانے والوں کے باہمی مشورہ کی مجلس ہو۔پھر وہ مجلس جس میں بدکاری کا منصوبہ بنے۔اور پھر وہ مجلس جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کا منصوبہ بنایا جائے۔تو جہاں ایسی سازشیں ہو رہی ہوں جس سے کسی کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہو، ایسی باتیں سن کر متعلقہ لوگوں تک یا افسران تک پہنچانا یہ امانت ہے۔ان کو نہ پہنچانا خیانت ہو جائے گی۔تو نظام کے متعلق جو باتیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ اگر کوئی نظام کے خلاف بات کر رہا ہو اور بالا افسران تک نہ پہنچائیں۔اعلیٰ اخلاق کے نمونے پیش کریں پھر بعض دفعہ عہد یدار ان کے خلاف شکایات پیدا ہوتی ہیں تو بعض اوقات یہ صرف غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔یا بعض دفعہ کسی نے اپنے ذاتی بغض کی وجہ سے کسی عہد یدار کے ساتھ ہے اپنے ماحول میں بھی لوگ اس عہد یدار کے خلاف باتیں کر کے لوگوں کو اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی آپ کو چاہیے کہ امانتیں ان کے صحیح حقداروں تک پہنچائیں۔یعنی با تیں بالا افسران تک ،عہد یداران تک ، نظام تک پہنچائیں۔لیکن تب بھی یہ کوئی حق نہیں پہنچتا بہر حال کہ ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کی جائیں۔بلکہ جس کے خلاف بات ہورہی ہے مناسب تو یہی ہے کہ اگر آپ کی اس عہد یدار تک پہنچ ہے تو اس تک بات پہنچائی جائے کہ تمہارے خلاف یہ باتیں سننے میں آرہی ہیں۔اگر صحیح ہیں تو اصلاح کر لو اور اگر غلط ہیں تو جو بھی صفائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہوکرو۔کسی کی پیٹھ پیچھے بات کرنا غیبت کے زمرہ میں آتا ہے پھر کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یا غلط یہ غیبت یا