مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 178
مشعل راه جلد پنجم 178 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی طور پر پاکستان اور ہندوستان میں (بیت الذکر) کے اندر ہال کی صفائی کا بھی باقاعدہ انتظام ہو۔تنکوں کی وہاں صفیں بچھی ہوتی ہیں۔صفیں اٹھا کر صفائی کی جائے ، وہاں دیواروں پر جالے بڑی جلدی لگ جاتے ہیں، جالوں کی صفائی کی جائے۔پنکھوں وغیرہ پر مٹی نظر آ رہی ہوتی ہے وہ صاف ہونے چاہئیں۔غرض جب آدمی ( بیت الذکر ) کے اندر جائے تو انتہائی صفائی کا احساس ہونا چاہیے کہ ایسی جگہ آ گیا ہے جو دوسری جگہوں سے مختلف ہے اور منفرد ہے۔اور جن ( بیوت الذکر ) میں قالین وغیرہ بچھے ہوئے ہیں وہاں بھی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔لمبا عرصہ اگر صفائی نہ کریں تو قالین میں بو آنے لگ جاتی ہے ہمٹی چلی جاتی ہے۔خاص طور پر جمعے کے دن تو بہر حال صفائی ہونی چاہیے۔اور پھر حدیثوں میں آیا ہے کہ دھونی وغیرہ دے کر ہوا کو بھی صاف رکھنا چاہیے اس کا بھی باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔لیکن ( بیت الذکر ) میں خوشبو کے لئے بعض لوگ اگر بتیاں جلا لیتے ہیں۔بعض دفعہ اس کا نقصان بھی ہو جاتا ہے، پاکستان میں ایک ( بیت الذکر ) میں اگر بتی کسی نے لگادی اور آہستہ آہستہ الماری کو آگ لگ گئی نقصان بھی ہوا۔ایک تو یہ احتیاط ہونی چاہیے کہ جب موجود ہوں تب ہی لگے۔دوسرے بعض اگر بتیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں اتنی تیز خوشبو ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے بجائے آرام کے تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں۔اس سے اکثر کو سر درد شروع ہو جاتی ہے۔تو ایسی چیز لگانی چاہیے یا دھونی دینی چاہیے جو ذرا ہلکی ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس بات کی تحریک کرتے رہتے تھے کہ خاص طور پر اجتماعات کے دنوں میں جب لوگ اکٹھے ہو رہے ہوں مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھا کریں اور ان میں خوشبو جلایا کریں تا کہ ہوا صاف ہو جائے۔(مشکوۃ۔کتاب الصلوۃ) ایک اور روایت ہے۔آپ ہمیشہ صحابہ کونصیحت کرتے رہتے تھے کہ اجتماع کے موقع پر بد بودار چیزیں کھا کر مسجد میں نہ آیا کریں۔جب نمازوں کے لئے مسجد میں آتے ہیں تو پیاز اور لہسن وغیرہ چیزیں کھا کر نہ آئیں۔( بخاری۔کتاب الاطعمہ ) اور اس کے ساتھ ہی بعض دفعہ جرابیں بھی کئی دنوں کی گندی ہوتی ہیں ان سے بھی بو آتی ہے وہ بھی پہن کے نہیں آنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری اور باطنی صفائی کی طرف توجہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل 7 تا 14 مئی 2004ء)