مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 173

مشعل راه جلد پنجم 173 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہیں کہ مانگ ہے، بڑا پہنچا ہوا بزرگ ہے حالانکہ یہ سراسر دینی ) تعلیم کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جماعت ایسے لوگوں سے پاک ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عطاء ابن سیار بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص پراگندہ بال اور بکھری ڈاڑھی والا آیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سر اور داڑھی کے بال درست کرو۔جب وہ سر کے بال ٹھیک ٹھاک کر کے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بھلی شکل (یعنی یہ خوبصورت شکل ) بہتر ہے یا یہ کہ انسان کے بال اس طرح بکھرے اور پراگندہ ہوں کہ وہ شیطان اور بھوت لگے۔(موطا امام مالک۔باب ما جاء فی الطعام والشراب واصلاح الشعر ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے غلیظ حلیے والے لوگوں کو شیطان سے تشبیہ دی ہے۔اور پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں ایسے حلیے کے لوگوں کو دیکھ کے ملنگ اور اللہ والے کہا جاتا ہے۔تو یہ تقضا دیکھ لیں اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے اس زمانے کے امام کو نہیں مانا اور پہچانا۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص جس کے دل میں ذرا سا بھی تکبر ہوگا۔وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ایک شخص نے عرض کی کہ ہر شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے خوبصورت ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“۔مسلم۔کتاب الایمان باب تحریم الکبر و بیانہ ) اب اس حدیث سے یہ واضح ہونا چاہیے کہ صاف ستھرا رہنے یا اچھے کپڑے پہنے سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہیے کہ اپنے سے مالی لحاظ سے کم تر کسی شخص کے ساتھ نہ بیٹھوں۔اگر یہ صورت ہوگی تو پھر تکبر ہے۔ورنہ اچھے کپڑے پہننا اور صاف ستھرا رہنا، اچھے جوتے پہنا یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار ہے۔اور اگر تکبر ہوگا تو تب فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے پھر جنت کے دروازے بند ہیں۔اس لئے مومن اور دنیا دار میں یہی فرق ہے کہ وہ صاف ستھرا رہتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اچھے جوتے پہنتا ہے اپنے گھر کو سجا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوبصورتی پسند ہے یعنی اس کا یہ ظاہری خوبصورتی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور کیونکہ مومن کا یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔اس لئے غریب آدمی کے ساتھ مالی لحاظ سے اپنے سے کم بھائی کے