مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 172
مشعل راه جلد پنجم 172 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی پکڑو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی - صفحه ۲۳ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد نمبر ۴ صفحه ۴۹۶) جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بدن کو بھی صاف رکھو، کپڑوں کو بھی صاف رکھو، اس طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جتنا حلیہ خراب ہو اتنی بزرگی زیادہ ہوتی ہے حالانکہ (دینی) تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے۔ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر انعام کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر دیکھئے“۔(مسند احمد بن حنبل) پھر ایک روایت ہے، جو ابوالاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میرے جسم کے کپڑے معمولی اور گھٹیا تھے۔آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔آپ نے پوچھا کس طرح کا مال ہے۔میں نے کہا ہر طرح کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے دے رکھا ہے۔اونٹ بھی ہیں، گائے بھی ہیں۔بکریاں بھی ہیں گھوڑے بھی ہیں اور غلام بھی ہیں۔تو آپ نے فرمایا ” جب اللہ نے مال دے رکھا ہے تو اس کے فضل اور احسان کا اثر ونشان تمہارے جسم پر ظاہر ہونا چاہیے۔(مشکوۃ المصابیح) بعض لوگ تو طبعاً ایسے ہوتے ہیں کہ توجہ نہیں دیتے کہ صیح طرح کپڑے پہن سکیں اور بعض کنجوسی میں اپنا حلیہ بگاڑ کر رکھتے ہیں۔تو بہر حال جو بھی صورت ہے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر فضل اور احسان کیا ہے اس کا اظہار تمہارے حلیے سے بھی ہونا چاہیے، تمہارے کپڑوں سے تمہارے لباس سے تمہارے گھروں سے ، اس لئے اپنا حلیہ درست رکھو اور اچھے کپڑے پہنا کرو۔یہ نصیحت ان کو کی۔ایک روایت میں ہے حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ایک پراگندہ بال شخص کو دیکھا یعنی اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور فرمایا کہ ” کیا اس کے پاس بال بنانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔اور ایک گندے کپڑے والے شخص کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اسے کپڑے دھونے کے لئے پانی میسر نہیں“۔(سنن ابو داؤد۔کتاب اللباس - باب فی نغسل الثوب ) مطلب یہ تھا کہ یہ شخص اس حالت میں کیوں ہے۔اب بعض لوگ ہمارے ملکوں میں پاکستان وغیرہ میں گندے کپڑوں والے اور لمبے چونے پہنے ہوتے ہیں۔گھنگرو اور کڑے پہنے ہوئے ایسے لوگوں کو دیکھ کر سمجھتے