مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 144

مشعل راه جلد پنجم 144 * ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس اید واللہ تعالیٰ بنصرہ العلوم نے فرمایا:۔جیسا کہ میں نے کہا صرف خود ہی نیک اور عبادت گزار نہیں بننا بلکہ اپنی اولادوں میں بھی یہ نیکی پیدا کرنی ہے۔صحیح عبادت کرنے والا وہی ہے جو اپنی اولاد میں بھی یہی نیکی قائم رکھتا ہے۔ایک روایت ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے ، یا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔( صحیح مسلم) پس نیک لڑکا جو دعائیں کرنے والا ہوگا، وہ بھی اس کے لئے ایک طرح کا صدقہ جاریہ ہی ہے۔ہر احمدی کو اپنی اولاد کی تربیت کی طرف بہت توجہ دینی چاہیے۔پھر ایک روایت ہے حضرت ایوب اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولادکو دے سکتا ( ترمذی ابواب البر والصلۃ باب فی ادب الولد ) ہے۔پھر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا اس کے لئے صدقہ دینے سے زیادہ بہتر ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاکیزہ خوراک وہ ہے جو تم خود کما کر کھاؤ اور تمہاری اولا دبھی تمہاری عمدہ کمائی میں شامل ہے۔( ترمذی ابواب الا حکام باب ان الوالد یا خذ من مال ولده) اولاد کی عمدہ کمائی سے مراد یہ ہے کہ ایسے رنگ میں تربیت کرو کہ وہ نیک ہوں عبادت گزار ہوں۔جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا کہ وہ تمہارے لئے دعائیں کرنے والے ہوں۔تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ان کی تعلیم کا خیال رکھا جائے۔بچوں کی تعلیم کا خیال رکھنا بھی