مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 134
مشعل راه جلد پنجم 134 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مومنوں کو یہ عام ہدایت دی ہے کہ انہیں دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنا اوران کے قصوروں سے درگزر کرنا چاہیے مگر معاف کرنے کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔بعض لوگ نادانی سے ایک طرف نکل گئے ہیں اور بعض لوگ دوسری طرف۔وہ لوگ جن کا کوئی قصور کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجرم کو سزا دینی چاہیے تا کہ دوسروں کو عبرت ہو اور جو قصور کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاف کرنا چاہیے خدا خود بھی بندے کو معاف کرتا ہے۔تو جب خدا بندے کو معاف کرتا ہے تم بھی بندوں کے حقوق ادا کرونا۔وہی سلوک تمہارا بندوں کے ساتھ ہونا چاہے۔مگر یہ سب خود غرضی کے فتوے ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا معاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہیے وہ اس قسم کی بات اسی وقت کہتا ہے جب وہ خود مجرم ہوتا ہے۔اگر مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کی بات مان لیتے لیکن جب اس کا کوئی قصور کرتا ہے تب وہ یہ بات نہیں کہتا۔اسی طرح جو شخص اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ سزا دینی چاہیے وہ بھی اسی وقت یہ بات کہتا ہے جب کوئی دوسرا شخص اس کا قصور کرتا ہے لیکن جب وہ خود کسی کا قصور کرتا ہے تب یہ بات اس کے منہ سے نہیں نکلتی۔اس وقت وہ یہی کہتا ہے کہ خدا جب معاف کرتا ہے تو بندہ کیوں معاف نہ کرے۔پس یہ دونوں فتوے خود غرضی پر مشتمل ہیں۔اصل فتوی وہی ہو سکتا ہے جس میں کوئی اپنی غرض شامل نہ ہو اور وہ وہی ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہو تو تم یہ دیکھو کہ سزاد دینے میں اس کی اصلاح ہوسکتی ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 285) ہے یا معاف کرنے میں۔“ ) الفضل انٹر نیشنل لنڈن 5 تا 11 مارچ 2004 ص 3-4)