مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 131
131 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم کر رہا تھا۔کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروادیا۔اس کے بعد وہ بچہ گھر آیا اور اپنے باپ کا ریوالور یا کوئی ہتھیار لے کے اپنے دوسرے ہم عمر کوقتل کرنے کے لئے باہر نکلا۔اس نے لکھا ہے کہ شکر ہے پستول نہیں چلا ، جان بچ گئی۔لیکن یہ ماحول اور لوگوں کے رویے معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔اور معاشرے کی یہ کیفیت ہے اس وقت کہ بالکل برداشت نہیں، معاف کرنے کی بالکل عادت نہیں ، اور یہ واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے پاکستان کا ہے۔لیکن یہاں یورپ میں بھی ایسے ملتے جلتے بہت سے واقعات ہیں جن کی مثالیں ملتی ہیں۔بعض دفعہ اخباروں میں آجاتا ہے۔تو جب اس قسم کے حالات ہوں تو سوچیں کہ ایک احمدی کی ذمہ داری کس حد تک بڑھ جاتی ہے۔اپنے آپ کو ، اپنی نسلوں کو اس بگڑتے ہوئے معاشرے سے بچانے کے لئے بہت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اور ہمارے لئے کس قدر ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم قرآنی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو آسائش میں خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی ، اور غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس میں احسان کرنے والوں کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ جب تم یہ نہیں دیکھو گے کہ تمہاری ضروریات پوری ہوتی ہیں کہ نہیں تمہیں مالی کشائش ہے یا نہیں اور ہر حال میں اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گے تو نیکی کرنے کی روح پیدا ہوگی اور پھر فرمایا کہ ایک بہت بڑا خلق تمہارا غصے کو دبانا ہے۔اور لوگوں سے عفو کا سلوک کرنا ہے اور ان سے در گزر کرنا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگوں سے عفو کا سلوک کرو گے معاف کرنے کی عادت ڈالو گے اس لئے کہ معاشرے میں فتنہ نہ پھیلے ، اس لئے کہ تمہارے اس سلوک سے شاید جس کو تم معاف کر رہے ہو اس کی اصلاح ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں سے میں محبت کرتا ہوں۔آج کل کے معاشرے میں احمدی نے ہی اخلاق کے نمونے دکھانے ہیں آج کل کے معاشرے میں جہاں ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے یہ خلق تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور بھی پسندیدہ ٹھہرے گا اور آج اگر یہ اعلیٰ اخلاق کوئی دکھا سکتا ہے تو احمدی ہی ہے۔جنہوں نے ان احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے زمانے کے امام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے عفو کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر مختلف جگہوں پر قرآن کریم میں اس بارے میں احکامات دیئے ہیں۔مختلف معاملات کے بارے میں،