مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 104
مشعل راه جلد پنجم 104 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اور واجب الاتباع سنت ہے۔جب کوئی مقدمہ یا کیس آپ کے سامنے پیش ہو تو معاملے کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو۔کیونکہ صرف حق بات کہنا اور اس کے نفاذ کی کوشش نہ کرنا بے فائدہ ہے۔کیا بلحاظ مجلس، کیا بلحاظ توجہ اور کیا بلحاظ عدل و انصاف، سب لوگوں کے درمیان مساوات قائم رکھو۔سب سے ایک جیسا سلوک کروتا کہ کوئی با اثر تم سے ظلم کروانے کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور کو تیرے ظلم وجور کا ڈر اور اندیشہ نہ ہو اور ثبوت پیش کر نا مدعی کا فرض ہے اور قسم منکر مد عاعلیہ پر آئے گی۔مسلمانوں کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ہاں ایسی صلح کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس کی وجہ سے حرام حلال بن رہا ہو اور حلال حرام۔یعنی خلاف شریعت صلح جائز نہ ہوگی۔اگر تم کوئی فیصلہ کرو اور پھر غور وفکر کے بعد اللہ کی ہدایت سے دیکھو کہ فیصلے میں غلطی ہوگئی ہے صحیح فیصلہ اور طرح ہے تو اپنا کل کا فیصلہ واپس لینے اور اسے منسوخ کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے کیونکہ حق اور عدل ایک عظیم صداقت ہے اور حق اور سچ کو کوئی چیز باطل اور غلط نہیں بنا سکتی ہے۔اس لئے حق کی طرف لوٹ جانا اور حق کو تسلیم کر لینا باطل میں پھنسے رہنے اور غلط بات پر مصر رہنے سے کہیں بہتر ہے۔جو بات تیرے دل میں کھٹکے اور قرآن وسنت میں اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہ ہو۔تو اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو اور اس کی مثالیں تلاش کرو، اس سے ملتی جلتی صورتوں پر غور کرو۔پھر اس پر قیاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کرو اور جو پہلو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ لگے اور حق اور سچ کے زیادہ مشابہ نظر آئے اسے اختیار کرو۔مدعی کو ثبوت پیش کرنے کے لئے مناسب تاریخ اور وقت دو تا کہ وہ اپنے دعویٰ کے حق میں ثبوت اکٹھے کر سکے۔اگر مقررہ تاریخ پر وہ ثبوت اور ہینہ پیش کر سکے فبہا ورنہ اس کے خلاف فیصلہ سنا دو۔یہ طریق اندھے پن دور کرنے والا ہے اور بے خبری کے اندھیرے کو روشن کرنے والا یعنی اس سے الجھا ہوا معاملہ سلجھ جائے گا۔اور ہر قسم کے عذر و اعتراض کا مؤثر جواب ہوگا۔سب مسلمان برابر شاہد عادل ہیں۔ایک دوسرے کے حق میں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں اور ان گواہیوں کے مطابق فیصلہ ہوگا سوائے اس کے کہ کسی کو حد کی سزامل چکی ہو یا اس کی جھوٹی شہادت دینے کا تجربہ ہو چکا ہو یا قرابت کے دعوئی میں اس پر کوئی تہمت لگی ہو یا اس کا اصل رشتہ کسی اور شخص یا قوم سے ہوا اور دعوی کسی اور کے رشتہ دار ہونے کا کرے یعنی حسب و نسب کے دعوئی میں جھوٹا ہو ایسے خفیف حرکت شخص کے سچا ہونے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔باقی سب مسلمان گواہ بننے کے اہل ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں۔کیونکہ کسی کے دل میں کیا ہے۔اصل راز