مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 93
مشعل راه جلد پنجم 93 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہوں ، چاہے جماعتی عہدیدار ہوں خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر اپنے اپنے علاقے میں متعین ہیں اور ان سے یہی امید کی جاتی ہے اور یہی تصور ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔بغیر تحقیق کے ہرگز کسی کی رپورٹ نہ کریں اگر وہ اپنے علاقے کے احمدیوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے، ان کی غمی خوشی میں شریک نہیں ہورہے ، ان سے پیار محبت کا سلوک نہیں کر رہے یا اگر خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے تو بغیر تحقیق کے مکمل طریق کے جواب دے دیتے ہیں یا کسی ذاتی عناد کی وجہ سے، جو خدا نہ کرے ہمارے کسی عہدیدار میں ہو، غلط رپورٹ دے دیتے ہیں تو ایسے تمام عہدیدار گناہ گار ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں بغیر مکمل تحقیق کے ایک رپورٹ چند احمدیوں کے بارہ میں مقامی جماعت کی طرف سے مرکز میں آئی کہ انہوں نے فلاں فلاں جماعتی روایات سے ہٹ کر کام کیا ہے اور جماعتی قواعد کے مطابق اس کی سزا اخراج از نظام جماعت تھی تو جب مرکزی دفتر نے مجھے لکھا اور ان اشخاص کو اخراج از نظام جماعت کی سزا ہوگی تو جن کو سزا ہوئی تھی انہوں نے شور مچایا کہ ہمارا تو اس کام سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ہم بالکل معصوم ہیں اور کسی طرح بھی ہم ملوث نہیں ہیں۔تو پھر مرکز نے نئے سرے سے کمیشن خود مقرر کیا اور تحقیق کی تو پتہ چلا کہ صدر جماعت نے بغیر مکمل تحقیق کے رپورٹ کر دی تھی اور اب صدر صاحب کہتے ہیں غلطی سے نام چلا گیا۔یعنی یہ تو بچوں کا کھیل ہو گیا کہ ایک معصوم کو اتنی سخت سزا دلوا ر ہے ہیں اور پھر بھولے بن کر کہہ دیا کہ غلطی سے نام چلا گیا۔تو ایسے غیر ذمہ دار صدر کو تو میں نے مرکز کو کہا ہے کہ فوری طور پر ہٹا دیا جائے اور آئندہ بھی جو کوئی ایسی غیر ذمہ داری کا ثبوت دے گا اس کو پھر تا زندگی کبھی کوئی جماعتی عہدہ نہیں ملے گا۔ایسے شخص نے ہمیں بھی گناہگار بنوایا۔اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت معقل بن لیسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اپنے فرض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے تک اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔(مسلم کتاب الایمان باب استحقاق الوالى الغاش لرعیة النار )