مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 62

مشعل راه جلد پنجم 62 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سے خدمت انسانیت کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے افریقہ میں بھی اور ربوہ اور قادیان میں بھی واقفین ڈاکٹر اور اساتذہ خدمت بجالا رہے ہیں۔لیکن میں ہر احمدی ڈاکٹر ، ہر احمدی ٹیچر اور ہر احمدی وکیل اور ہر وہ احمدی جو اپنے پیشے کے لحاظ سے کسی بھی رنگ میں خدمت انسانیت کر سکتا ہے، غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آ سکتا ہے، ان سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ضرور غریبوں اور ضرورتمندوں کے کام آنے کی کوشش کریں۔تو اللہ تعالیٰ آپ کے اموال ونفوس میں پہلے سے بڑھ کر برکت عطا فرمائے گا انشاء اللہ۔اگر آپ سب اس نیت سے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہوں کہ ہم نے زمانے کے امام کے ساتھ ایک عہد بیعت باندھا ہے جس کو پورا کرنا ہم پر فرض ہے تو پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی کس قدر بارش ہوتی ہے جس کو آپ سنبھال بھی نہیں سکیں گے۔آئندہ نسلیں بھی خلافت سے محبت اور وفا کا تعلق لے کر پروان چڑھیں گی پھر فرمایا:- آخر میں میں جماعت احمدیہ جرمنی میں کام کرنے والے کارکنان کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جرمنی میں خطبہ کے دوران میں کسی وجہ سے کہہ نہیں سکا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام کارکنان اور کارکنات نے انتہائی جوش اور جذبے سے مہمانوں کی خدمت کی ہے۔اور جلسے کے ابتدائی انتظامات میں بھی اور آخر میں بھی جب کہ کام سمیٹنا ہوتا ہے اور کافی مشکل کام ہوتا ہے یہ بھی، بڑی محنت سے وقت کے اندر بلکہ وقت سے پہلے تمام علاقے کو صاف کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سپرد کر دیا اور الحمدللہ کہ جہاں جہاں بھی جلسے ہوئے یہی نظارے دیکھنے میں نظر آرہے ہیں اور سب سے زیادہ خوشکن بات جو مجھے لگی اس جلسہ میں وہ یہ تھی کہ اس سال لجنہ کی خواتین کی حاضری مردوں سے زیادہ تھی اور کم و بیش دو ہزار عورتیں مردوں کی نسبت تعداد میں زیادہ تھیں۔تو اس سے یہ تسلی بھی ہوئی کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کی آئندہ نسلیں بھی خلافت اور جماعت سے محبت اور وفا کا تعلق لے کر پروان چڑھیں گی۔انشاء اللہ اللہ تعالیٰ تمام عہد یداران، کارکنان اور شاملین جلسہ کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے اور خلافت سے وفا اور تعلق بڑھا تا رہے اور اپنی جناب سے ان کو اجر دے۔“ (الفضل انٹر نیشنل 7 تا 13 نومبر 2003 ، صفحہ 5-8)