مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 52

مشعل راه جلد پنجم 52 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا۔(مسلم کتاب الزكوة ) تو دیکھیں نیکی سے کس طرح نیکیاں نکلتی چلی جارہی ہیں۔خدا کی جماعت کی خدمت کا موقع بھی ملا، خدا کی مخلوق کی خدمت کا موقع بھی ملا حکم کی پابندی کر کے، امانت کی ادائیگی کر کے صدقے کا ثواب بھی کما لیا۔بلاؤں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ کرلیا، اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوگئی۔مجالس کے آداب پھر مجالس کی امانتیں ہیں۔کسی مجلس میں اگر آپ کو دوست سمجھ کر، اپنا سمجھ کر آپ کے سامنے باتیں کر دی جائیں تو ان باتوں کو باہر لوگوں میں کرنا بھی خیانت ہے۔پھر مجالس میں کسی کے عیب دیکھیں، کسی کی کوئی کمزوری دیکھیں تو اس کو باہر پھیلانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔جب کہ کسی اور شخص کو بھی بتانا جس کا اس مجلس سے تعلق نہ ہو یہ بھی خیانت ہے۔ایک بات اور واضح ہو اور ہر وقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر کسی مجلس میں نظام کے خلاف یا نظام کے کسی رکن کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو اس کو پہلے تو وہیں بات کرنے والے کو سمجھا کر اس بات کو ختم کر دینا زیادہ مناسب ہے اور وہیں اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ ہو تو پھر بالا افسران تک اطلاع کرنی چاہیے۔لیکن بعض دفعہ بعض کارکن بھی اس میں Involve ہو جاتے ہیں۔پتہ نہیں آج کل کے حالات کی وجہ سے مردوں کے اعصاب پر بھی زیادہ اثر ہو جاتا ہے یا مردوں کو بھی بلا سوچے سمجھے عورتوں کی طرح باتیں کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔اس میں بعض اوقات اچھے بھلے سلجھے ہوئے کارکن بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور اس طرح غیر محسوس طور پر ایک کارکن دوسرے کارکن کے متعلق بات کر کے یا ایک عہدیدار دوسرے بالا عہد یدار کے متعلق بات کر کے یا اپنے سے کم عہد یدار کے متعلق بات کر کے لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بن رہا ہوتا ہے۔کمز ورطبیعت والے ایسی باتوں کا خواہ وہ چھوٹی باتیں ہی ہوں، برا اثر لیتے ہیں۔اور ایسے کارکنوں کو بھی جو اپنے ساتھی عہدیداران کے متعلق باتیں کرنے کی عادت پڑ جائے تو منافق بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔اس لئے تمام کارکنان اور عہدیداران کو جو ایسی باتیں خواہ مذاق کے رنگ میں ہوں ، کرتے ہیں ان کو اپنے عہدوں اور اپنے مقام کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کرنا چاہیے۔اور ایسی مجلسوں میں بیٹھنے