مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 36
مشعل راه جلد پنجم 36 * ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: -۔یہاں میں ضمناً ذکر کر دوں۔گو ضمنا ہے مگر میرے نزدیک اس کا ایک حصہ ہی ہے کہ اگر والدین کی دعا اپنے بچوں کے لئے اچھے رنگ میں پوری ہوتی ہے تو وہاں ایسے بچے جو والدین کے اطاعت گزار نہ ہوں ان کے حق میں برے رنگ میں بھی پوری ہو سکتی ہے۔تو ماں باپ کی ایسی دعا سے ڈرنا بھی چاہیے۔بعض بچے جائیداد یا کسی معاملے میں والدین کے سامنے بے حیائی سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مختلف لوگ لکھتے رہتے ہیں اس لئے یہ عجیب خوفناک کیفیت بعض دفعہ سامنے آجاتی ہے۔اس لحاظ سے ایسے بچوں کو اس تعلیم کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ماں کے لئے تو خاص طور پر حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔اور یہ فرمایا ہے کہ تمہارے سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔یہ جو قرآن حکیم کا حکم ہے کہ والدین کو اف نہ کہو یہ اس لئے ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور تم سمجھتے ہو کہ تمہاراحق مارا جا رہا ہے یا تمہارے ساتھ ناجائز رویہ اختیار کیا ہے ماں باپ نے۔تب بھی تم نے ان کے آگے نہیں بولنا اور نہ کسی کا دماغ تو نہیں چلا ہوا کہ ماں باپ کے فیض بھی اٹھارہا ہو اور ماں باپ اس بچے کی ہر خواہش بھی پوری کر رہے ہوں تو ان کی نافرمانی کرے یا کوئی نامناسب بات کرے۔۔۔تو جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے بہت سے ماں باپ اپنے بچوں کی نافرمانیوں کا ذکر کرتے ہیں اپنے خطوط میں۔اس ضمن میں والدین کا جہاں فرض ہے اور سب سے بڑا فرض ہے کہ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک بچوں کے نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ان کی جائز اور ناجائز بات کو ہمیشہ مانتے نہ رہیں اور اولاد کی تربیت اور اٹھان صرف اس نیت سے نہ کریں کہ ہماری جائیدادوں کے مالک بنیں جیسا کہ میں آگے چل کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات میں اس کا ذکر کروں گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی بچوں کو بھی خوف خدا کرنا چاہیے کہ ماؤں کے حقوق کا خیال رکھیں۔باپوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔یہ نہ ہو کہ کل کو ان کے بچے ان کے سامنے اسی طرح کھڑے ہو جائیں کیونکہ آج اگر یہ نہ سمجھے اور اس امر کو نہ روکا تو پھر یہ شیطانی سلسلہ کہیں جا کر رکے گا نہیں اور کل کو یہی سلوک ان کے ساتھ بھی