مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 27
مشعل راه جلد پنجم 27 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی جائیں گے۔رسمی طور پر تحریک جدید سے بھی واسطہ رہے گا یعنی وکالت وقف نو سے۔اور نظام جماعت سے بھی واسطہ رہے گا۔مگر فی الحقیقت بچپن ہی سے جو بچے آپ خدا کی گود میں لا ڈالیں خدا ان کو سنبھالتا ہے، خود ہی ان کا انتظام فرماتا ہے۔خود ہی ان کی نگہداشت کرتا ہے۔جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدا نے نگہداشت فرمائی۔آپ لکھتے ہیں:۔ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار پس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو اور اپنے واقفین کے وجود کو خدا کے سپرد کریں اور خدا کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر 1989ء) وقف زندگی سے فی زمانہ بڑی کوئی اور چیز نہیں پھر بچوں میں یہ احساس بھی پیدا کریں کہ تم واقف زندگی ہو اور فی زمانہ اس سے بڑی کوئی اور چیز نہیں۔اپنے اندر قناعت پیدا کرو، نیکی کے معاملہ میں ضرور اپنے سے بڑے کو دیکھو اور آگے بڑھنے کی کوشش کرو لیکن دنیا وی دولت یا کسی کی امارت تمہیں متاثر نہ کرے بلکہ اس معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو اور خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دین کی خدمت کی توفیق دی ہے۔اور اس دولت سے مالا مال کیا ہے۔کسی سے کوئی توقع نہ رکھو۔ہر چیز اپنے پیارے خدا سے مانگو۔ایک بڑی تعداد ایسے واقفین نو بچوں کی ہے جو ماشاء اللہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ان کو خود بھی اب ان باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ضمناً یہ بات بھی کردوں کہ حضور رحمہ اللہ نے بھی ایک دفعہ اظہار فرمایا تھا کہ واقفین نو بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو ہے ان کی تربیت ایسے رنگ میں کرنی چاہیے اور ان کے ذہن میں یہ ڈالنا چاہیے کہ انہیں ( مربی ) بننا ہے۔اور آئندہ زمانے میں جو ضرورت پیش آنی ہے (مربیان ) کی بہت بڑی تعداد کی ضرورت ہے اس لئے اس نہج پر تربیت کریں کہ بچوں کو پتہ ہو کہ اکثریت ان کی ( دعوۃ الی اللہ ) کے میدان میں جانے والی ہے اور اس لحاظ سے ان کی تربیت ہونی چاہیے۔الفضل انٹر نیشنل 22 تا 28 اگست 2003 صفحه 5-8 )