مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 180

مشعل راه جلد پنجم 180 * ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے ذیل کی آیت تلاوت فرمائی:۔زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ - ذلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ اس کے بعد فرمایا: - ( سورة آل عمران : ۱۵) اس کا ترجمہ ہے کہ لوگوں کے لئے طبعاً پسند کی جانے والی چیزوں کی یعنی عورتوں کی اور اولاد کی اور ڈھیروں ڈھیر سونے چاندی کی اور امتیازی نشان کے ساتھ داغے ہوئے گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتیوں کی محبت خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔یہ دنیوی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ وہ ہے جس کے پاس بہت بہتر لوٹنے کی جگہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا دار طبعا یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے پاس خوبصورت اور مالدار عورتیں ہوں ان کی زوجیت میں ، آجکل بھی دیکھ لیں مالدار لوگ یا پیسے والے لوگ یا اس کی سوچ کو رکھنے والے اکثر مالدار گھرانے میں اس لئے شادیاں کرتے ہیں کہ یا تو ان کی طرف سے کچھ مال مل جائے گا یا دونوں طرف کا مال اکھٹا ہو کر ان کے مال میں اضافہ ہوگا۔اس بات کی پر واہ کم کی جاتی ہے کہ جن چار وجوہات کی بناء پر رشتہ کیا جانا چاہیے یعنی مال (جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ) ، خاندان، خوبصورتی یا دینداری۔ان میں سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین ہے، اس کی پرواہ کم کی جاتی ہے۔لیکن مال کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اور پھر یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ اولاد کو اور اولاد میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ لڑکے ہوں۔آجکل کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ، ترقی یافتہ زمانے میں بھی یہ سوچ ہے اور یہ سوچ بڑی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ لڑکے پیدا ہوں اور باپ کی طرح دنیا داری کے کاموں میں باپ کے ساتھ کام کریں۔پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ مال ہو، ڈھیروں ڈھیر مال کی خواہش ہو اور جتنا مال آتا ہے اتنی زیادہ )