مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 169

169 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کونسل کرو، ہر نماز میں وضو کرو، جماعت کھڑی کرو تو خوشبو لگالو، عیدین اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے ( بد بو کا اندیشہ ہوتا ہے ) پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمئیت اور عفونت سے روک ہوگی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه ۷۰۵،۷۰۴) صفائی کے بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں ، حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ یعنی طہارت پاکیزگی اور صاف ستھرا رہنا ایمان کا ایک حصہ ہے“۔(مسلم کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء ) ابو مالک اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاکیزگی اختیار کرنا نصف ایمان ہے“۔(انجم الکبیر جلد۳) اب دیکھیں مومن کے لئے صفائی کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے، اور یہ احادیث اکثر مسلمانوں کو یاد ہیں، کبھی ذکر ہو تو آپ کو فوراً حوالہ بھی دے دیں گے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس پر عمل کس حد تک ہے؟ یہ دیکھنے والی چیز ہے، اگر ایک جگہ صفائی کرتے ہیں تو دوسری جگہ گند ڈال دیتے ہیں اور بدقسمتی سے مسلمانوں میں جس شدت سے صفائی کا احساس ہونا چاہیے وہ نہیں ہے اور اسی طرح اپنے اپنے ماحول میں احمدیوں میں بھی جو صفائی کے اعلیٰ معیار ہونے چاہئیں وہ مجموعی طور پر نہیں ہیں۔بجائے ماحول پر اپنا اثر ڈالنے کے ماحول کے زیر اثر آجاتے ہیں۔پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک میں اکثر جہاں گھر کا کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کوئی با قاعدہ انتظام نہیں ہے، گھر سے باہر گند پھینک دیتے ہیں حالانکہ ماحول کو صاف رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے گھر کو صاف رکھنا۔ورنہ تو پھر اس گند کو باہر پھینک کر ماحول کو گندا کر رہے ہوں گے اور ماحول میں بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہوں گے۔اس لئے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے۔کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ گھروں کے باہر گند نظر نہ آئے۔ربوہ میں ، جہاں تقریباً ۹۸ فیصد احمدی آبادی ہے، ایک صاف ستھرا ماحول نظر آنا چاہیے۔اب ما شاء اللہ تزئین ربوہ کمیٹی کی طرف سے کافی کوشش کی گئی ہے۔ربوہ کو سرسبز بنایا جائے اور بنا بھی رہے ہیں۔کافی پودے، درخت گھاس وغیرہ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے ہیں اور نظر بھی آتے ہیں۔اکثر آنے والے ذکر کرتے ہیں۔اور کافی تعریف کرتے ہیں۔کافی