مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 105

105 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم اور سچائی کیا ہے۔اسے اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو خدا اس کو اس کی سزا دے گا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں بینات اور گواہیوں کے ذریعہ معاملات نپٹانے کا مکلف بنایا ہے۔یہ بھی یادرکھو کہ تنگ پڑنے سے بچو۔جلد گھبرا جانے اور لوگوں سے تکلیف اور دکھ محسوس کرنے اور فریقین مقدمہ سے تنفر اور اجنبی پن سے کبھی پیش نہ آؤ۔حق اور سچ معلوم کرنے کے مواقع میں اس طرز عمل سے بچنا اور حق شناسی کی صحیح کوشش کرنا۔اللہ اس کا ضرور اجر دے گا اور ایسے شخص کو نیک شہرت بخشے گا جو شخص اللہ کی خاطر خلوص نیت اختیار کرے گا۔اللہ اُسے لوگوں کے شر سے بچائے گا اور جو شخص محض بناوٹ اور تصنع سے اپنے آپ کو اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا۔اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی اس کا راز فاش کر دے گا اور اس کی رسوائی کے سامان پیدا کر دے گا۔(سنن دارقطنی کتاب الا قضیہ والا حکام) عہد یداران کے متعلق عمومی ہدایات اس کے علاوہ عہد یدار ان کے متعلق بعض عمومی باتیں بھی ہیں ان کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔اللہ کے فضل سے جماعت میں عموماً عہدے کی خواہش کا اظہار کوئی نہیں کرتا اور جب عہدہ مل جاتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں ادا بھی کر سکتا ہوں یا نہیں۔لیکن بعض سر پھرے بھی ہوتے ہیں۔خط لکھ دیتے ہیں۔ہمارے ضلع میں صحیح کام نہیں ہورہا۔لکھنے والا لکھتا ہے گو میں جانتا ہوں کہ عہدے کی خواہش کرنا مناسب نہیں لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرے سپر د امارت یا فلاں عہدہ کر دیا جائے تو میں چھ مہینے یا سال میں اصلاح کر سکتا ہوں، تبدیلیاں پیدا کر دوں گا۔تو بعض ایسے سر پھرے ہوتے ہیں جو کھل کر لکھ دیتے ہیں اور بعض بڑی ہوشیاری سے یہی مدعا بیان کر رہے ہوتے ہیں۔تو ان پر میں یہ واضح کر دوں کہ ہمارے نظام میں ، جماعت احمدیہ کے نظام میں اگر کسی انتخاب کے وقت کسی کا نام پیش ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو ووٹ دینے کا حق بھی نہیں رکھتا۔اپنے آپ کو ووٹ دینا بھی اس بات کا اظہار ہے کہ میں اس عہدے کا حق دار ہوں۔ایسے لوگوں کو یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہیے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میرے ساتھ میرے دو چا زاد بھائی تھے۔ان میں سے ایک بولا۔یا رسول اللہ ! ہم کو ان ملکوں میں سے کسی ملک کا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیے ہیں امیر مقرر کر دیجیے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا تو آپ نے فرمایا :-