مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 103

مشعل راه جلد پنجم 103 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی گیا تو اسے ایک ثواب اپنی کوشش اور نیک نیتی کا بہر حال ملے گا۔فیصلہ کرنے کا صحیح اصول ( بخاری کتاب الاعتصام باب اجرالی کم اذا اجتهد فاصاب اواخطا) پھر حضرت معاذ بن جبل کے کچھ ساتھی جو حمص کے رہنے والے تھے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معادؓ کو یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا تو معاذ سے پوچھا کہ:- جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ نے عرض کیا کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ، یعنی قرآن شریف کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ نے پوچھا اگر کتاب اللہ میں وضاحت نہ ملے تو پھر کیا کرو گے۔معاذ نے عرض کی۔اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ نے فرمایا۔نہ سنت میں کوئی ہدایت پاؤ نہ کتاب اللہ میں تو پھر کیا کرو گے؟ تو معاذ نے عرض کی کہ اس صورت میں غور وفکر کر کے اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا اور اس میں کسی سستی اور غفلت سے کام نہیں لوں گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر معاذ کے سینے پر شاباش دینے کیلئے ہاتھ مار کر فرمایا۔الحمد للہ ! خدا کا شکر ہے کہ اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو یہ تو فیق دی اور وہ صحیح طریق کار سمجھا جو اللہ کے رسول کو پسند ہے۔(ابوداؤد کتاب الاقضیۃ ، باب اجتهاد الرای فی القضاء) تو یہ ہے اصول فیصلہ کرنے کا کہ قرآن سے راہنمائی کی جائے۔پھر سنت سے راہنمائی کی جائے۔اگر خلفاء کے ارشادات ہیں اس بارے میں، ان سے راہنمائی کی جائے۔پھر اگر کہیں سے بھی اس مخصوص امر کے لئے راہنمائی نہ ملے تو دعا کرتے ہوئے اللہ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے کسی بات کا فیصلہ کیا جائے ، جو بھی مقدمہ قاضیوں کے سامنے پیش ہو۔ان کا فیصلہ کیا جائے۔اب تو تقریباً تمام معاملات میں اصولی قواعد مرتب ہیں قاضیوں کو مل بھی جاتے ہیں۔فقہی مسائل یا مسئلے بھی چھپے ہوئے موجود ہیں تو ان کی روشنی میں تمام فیصلے ہونے چاہئیں۔حضرت عمرؓ کا ایک خط جو انہوں نے ابو موسیٰ اشعری کولکھا تھا۔حضرت سعید بن ابو بردہ نے امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کا ایک خط نکالا جو انہوں نے اپنے ایک والی حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا تھا۔یہ روایت ہے اس کا مضمون یہ تھا قضا ایک محکم اور پختہ دینی فریضہ ہے