مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 79
مشعل راه جلد پنجم 79 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہی ہوں۔ایسے لوگوں کو یہ یا درکھنا چاہے کہ اپنے ملک میں تو شاید آپ کی یہ برائیاں چھپ جائیں لیکن یہاں آ کر نہیں چھپ سکتیں۔تو ان برائیوں کوختم کرنے کی کوشش کریں ہر وقت ذہن میں رکھیں کہ آپ اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے منسوب ہو چکی ہیں۔آپ کے اخلاقی معیار اب بہت بلند ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔کہ اگر جماعت میں رہنا ہے تو اعلیٰ اخلاق بھی دکھانے ہوں گے ورنہ تو کوئی فائدہ نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس کی مثال دی ہے اسکی ایسی مثال ہے جس طرح درخت کی سوکھی شاخ جس کو کوئی اچھا مالی یا مالک برداشت نہیں کرتا بلکہ اس سوکھی شاخ کو کاٹ دیتا ہے۔پھر اسی لئے بے صبری کا مظاہرہ ہوتا ہے بعض دفعہ کوئی نقصان ہو جائے تو رونا دھونا اور پٹینا شروع ہو جاتا ہے یہ بھی سخت منع ہے۔چاہے مالی نقصان ہو ، جانی نقصان ہو۔بعض اکثر مائیں، الحمد للہ جماعت احمد یہ اپنے بچوں کے ضائع ہونے پر بڑے صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔جان جانے پر بھی بڑے صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔لیکن کچھ شور مچانے والی رونے پیٹنے والی بھی ہوتی ہیں تو انکو بھی بہر حال صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یہ خوشجری دیتا ہے کہ میں صبر کرنے والوں کو بہت بڑا اجر دیتا ہوں پھر اس آیت میں فرمایا گیا ہے عاجزی کے بارے میں کہ عاجزی دکھا ؤ اب کہنے کو تو زبانی کہہ دیتے ہیں کہ میں تو بڑی عاجز ہوں مالی لحاظ سے اپنے سے بہتر یا برابر سے تو بڑی جھک جھک کر یا اس level پر باتیں کر رہی ہوتی ہیں کہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی تکبر یا غرور ہے لیکن پتہ تب چلتا ہے جب اپنے سے کم تر مالی لحاظ سے یا مرتبہ کے لحاظ سے کسی عورت سے باتیں کر رہی ہوں۔غرباء سے عاجزی اور خاکساری کا مظاہرہ کریں اسوقت پھر بعض دفعہ ایسی عورتوں کو جن میں عاجزی نہیں ہوتی رعونت اور تکبر کا اظہار ہورہا ہوتا ہے یہ عاجزی نہیں ہے کہ امیروں سے تو عاجزی دکھا دی اور غریبوں سے عاجزی نہیں ہوئی۔اب بعض دفعہ یہ اظہار صرف بات چیت سے نہیں ہو رہا ہوتا اب اگر غور کریں تو ایسی عورتوں کا پھر یا ایسے مردوں کا دونوں اس میں شامل ہیں، آنکھوں سے بھی تکبر ٹپک رہا ہوتا ہے۔گردن پر فخر اور تکبر نظر آرہا ہوتا ہے یا چہرے پر تکبر کے آثار نظر آ رہے ہوتے ہیں تو منہ سے جتنا مرضی کوئی کہے کہ میں تو بڑا عا جز انسان ہوں زبان حال سے یہ پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔اور کوئی عاجزی نہیں اس میں۔