مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 76
مشعل راه جلد پنجم 76 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ذمہ دار تو تم خود ہو۔اگر تم چاہتی ہو تو اپنے عمل سے اپنی اولاد کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکتی ہو۔کل مجھے امیر صاحب کہنے لگے کہ یہاں بچوں کی تربیت کے بڑے مسائل ہیں بچے اسکول میں جاتے ہیں اور وہاں یہ سکھایا جاتا ہے کہ سوال کرو۔اور جب انکو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ یہ کام کرو اور ( دین حق ) ہمیں یہ سکھاتا ہے تو سوال کرتے ہیں کہ پہلے ہمیں سمجھاؤ کہ کیوں؟ تو میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ یہ بچوں کی تربیت کے مسائل نہیں ہیں یہ اچھی بات ہے انہیں سوال کرنے چاہیں یہ ماں اور باپ کی تربیت کے مسائل ہیں بچے سوال کرتے ہیں تو ماں باپ انکے سوالوں کے جوابات دیں اس بارہ میں میں پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں جلسہ پر کہ بچوں سے دوستی کا ماحول پیدا کریں۔ان کو احساس ہو کہ ہمارے ماں باپ ہمارے ہمدردبھی ہیں ہمارے دوست بھی ہیں۔اور جب آپ اپنے آپ میں اپنے خود میں دین کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا تو آپ ایک مضبوط ایمان والے ہوں گے اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں گے ، نظام کا احترام سکھانے والے ہوں گے۔تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بچے آپکا کہا ماننے والے نہ ہوں جو سوال و جواب ہوگا اس سے بہر حال ان کی تسلی ہوگی۔انکی Satisfaction ہوگی۔اور جب تک یہ بچے اس شعور کی عمر کو پہنچیں کہ انکے دل میں مذہب کے بارے میں سوال پیدا ہونے شروع ہوں، تو قرآن حدیث پڑھ کر ، خلفاء کے خطبات سن کر ، علماء سے پوچھ کر، کتابیں پڑھ کر وہ خود اپنے سوالوں کا جواب تلاش کر لیں گے۔جب بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے تو بچے سمجھ جاتے ہیں یہ کئی دفعہ بات تجربہ میں آئی ہے کہ ماں بچوں کے سامنے کہ دیتی ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے اب نہیں کوئی بچہ اس طرح بڑوں کا احترام کرتا، بڑا مشکل کام ہے۔یہ غلط ہے بچوں پہ الزام ہے۔جب بچے کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے تو بچے وہیں ماں کے سامنے اعتراف کرتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ یہ بات مجھے یوں نہیں اس طرح کرنی چاہیے تھی جس طرح آپ نے سمجھایا تو بچوں سے یہاں میری مراد سولہ سترہ سال کی عمر کے بچے ہیں۔لڑکے لڑکیاں، اور یہ نہیں ہے کہ یہ میرے سامنے اعتراف کیا ہے بچوں نے۔جب ان کو سمجھایا گیا بلکہ جس نے بھی کسی عہدہ دار نے یا کسی بھی شخص نے جب بچوں کو سمجھایا اس کا فائدہ ہی ہوا ہے۔پھر اس آیت میں فرمایا ہے کہ سچ بولو اور سچ بولنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔سچ سے برائیاں ختم کرنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے سچ ایک ایسی بنیادی چیز ہے کہ اگر یہ پیدا ہو جائے تو تقریباً تمام بڑی بڑی برائیاں ختم ہو جاتی ہیں اور