مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 51
51 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم اور اس کے بندوں سے ایک کارکن ، ایک عہدیدار، اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کرتا ہے۔اگر ہر عہد یدار یہ سمجھنے لگ جائے کہ نہ صرف قول سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس بات پر قائم ہو کہ خدمت دین ایک فضل الہی ہے۔میری غلط سوچوں سے یہ فضل مجھ سے کہیں چھن نہ جائے تو ہماری ترقی کی رفتار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ہم سب کے لئےلمحہ فکر یہ ہے، ایک سوچنے کا مقام ہے کہ امانت ایمان کا حصہ ہے ، اگر امانت کی صحیح ادا ئیگی نہیں کر رہے، اگر اپنے عہد پر میچ طرح کار بند ہیں، جو حدود تمہارے لئے متعین کی گئی ہیں ان میں رہ کر خدمت انجام نہیں دے رہے تو اس حدیث کی رو سے ایسے شخص میں دین ہی نہیں اور دین کو درست کرنے کے لئے اپنی زبان کو درست کرنا ہوگا۔اور فرمایا کہ زبان اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک دل درست نہ ہوگا اور پھر ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی چلی جائے گی۔تو حسین معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ان تمام امور کی درستگی ضروری ہے۔ایک بات اور واضح ہو کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میرا دل درست ہے، کافی نہیں۔ہر وقت ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ ہماری پاتال تک سے واقف ہے۔وہ سمیع و بصیر ہے اس لئے اپنے تمام قبلے درست کرنے پڑیں گے۔تو خدمت دین کرنے کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔تو یہ تقویٰ کے معیار قائم رہیں گے تو نظام جماعت بھی مضبوط ہوگا اور ہوتا چلا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔تقویٰ کے ساتھ کام کرنے والوں کے لئے بشارت ایسے عہد یدار جو پورے تقویٰ کے ساتھ خدمت سرانجام دیتے ہیں اور دے رہے ہیں ان کے لئے ایک حدیث میں جو میں پڑھتا ہوں ، ایک خوشخبری ہے۔حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا،اگر وہ امین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتا ہے اسے صحیح صحیح نافذ کرتا ہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے تو ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والے