مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 42

42 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم نظم وضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے بھر پور تعاون کریں اور ان کی ہر طرح سے اطاعت کریں۔پھر ایک چیز یہ دیکھنے میں آتی ہے کہ ان دنوں میں بعض دفعہ کھانے کا بہت ضیاع ہوتا ہے۔کھانے کے آداب میں تو یہ ہے کہ جتنا پلیٹ میں ڈالیں اس کو مکمل ختم کریں۔کوئی ضیاع نہیں ہونا چاہیے۔بلا وجہ حرص میں آکر زیادہ ڈال لیا یا دیکھا دیکھی ڈال لیا۔اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہیے جس کا دوسروں پر برا اثر پڑ رہا ہو۔اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کھانا جو ضائع ہورہا ہوتا ہے اکثر کارکنان کا یہ قصور نہیں ہوتا بلکہ لینے والے کا قصور ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے اتنا ہی لیں جتنا آپ ختم کر سکیں لیکن کارکنان کے لئے بہر حال یہ ہدایت ہے کہ اگر کوئی مطالبہ کرتا ہے کہ مزید دو اور زیادہ لے لیتا ہے تو اسے نرمی سے سمجھائیں سختی سے کسی مہمان کو بھی انکار نہیں کرنا اور نہ یہ کسی کا رکن کا حق ہے۔پیار سے کہہ سکتے ہیں کہ ختم ہو جائے تو دوبارہ آکر لے لیں۔پھر صفائی کے متعلق پہلے بھی میں نے کہا تھا۔غسل خانوں کی صفائی۔یہاں یہ ہے کہ عمومی صفائی۔کھانا جہاں آپ کھا رہے ہوں ان جگہوں پر بعض لوگ کھانا کھا کر خالی برتنوں کو وہیں رکھ جاتے ہیں اور ڈسٹ بن میں نہیں ڈالتے اور یہ معمولی سی بات ہے۔ایک تو کارکنان کا کام بڑھ جاتا ہے۔اس عرصہ میں وہ کوئی اور کام کر سکتے ہے۔دوسرے گندگی پھیلتی ہے جو ویسے بھی حکم ہے کہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔تو جیسا کہ پہلے میں نے عرض کیا تھا کہ سڑکوں کی اور گراؤنڈز کی اور جلسہ گاہ کی صفائی کریں۔تو ہر جگہ پورے ماحول کی صفائی کی ضرورت ہے۔اور صفائی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔اس ماحول میں ظاہری صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔تو بلا وجہ انتظامیہ کو بھی اعتراض کا موقع نہ دیں اور اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیں کہ صفائی کو ہر صورت میں آپ نے قائم رکھنا ہے۔“ الفضل اند نیشنل 12 تا 18 ستمبر 2003 ، صفحہ 8)