مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 23
مشعل راه جلد پنجم ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں“۔واقفین بچوں کو قانع بنانا چاہیے پھر آپ فرماتے ہیں کہ :- 23 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہیے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہیے۔عقل اور فہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔غرض دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچانا ضروری ہے۔علاوہ ازیں بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہیے۔ترش روئی وقف کے ساتھ پہلو بہ پہلو نہیں چل سکتی۔ترش رو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطرناک فتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ حمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔اس کے علاوہ واقفین بچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، ناصرات سے وابستہ کرنا ، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا بھی بہت ( اقتباسات خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 1989ء) ضروری ہے۔اب یہ ایسی چیزیں ہیں بعض واقفین نو بچے سمجھتے ہیں کہ صرف ہماری علیحدہ کوئی تنظیم ہے۔جو جماعت کی باقاعدہ ذیلی تنظیمیں ہیں ان کا حصہ ہیں واقفین نو بچے بھی۔پھر بچپن سے ہی کردار بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔میں اس لئے حوالے حضور کے بھی ساتھ دے رہا ہوں کہ یہ تحریک ایک بہت بڑی تحریک تھی جو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمائی۔اور اس کے فوائد تو اب سامنے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور آئندہ زمانوں میں انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ کس کثرت سے اور بڑے پیمانہ پر اس کے فوائد نظر آئیں گے۔انشاء اللہ والدین کو اپنا کر دار قول و فعل کے مطابق کرنا ہوگا فرمایا کہ بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں۔دراصل اگر تاخیر ہو جائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔محاورہ ہے کہ گرم لو ہا ہو تو اس کو موڑ لینا چاہیے۔لیکن یہ بچپن کا لوہا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصہ تک نرم ہی رکھتا