مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 148
مشعل راه جلد پنجم 148۔* ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی حضور انور نے 5 اپریل 2004ء کو احباب جماعت ببینن سے فرمایا:۔آپ لوگ مختلف قبیلوں اور مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں میں سے شامل ہوئے ہیں۔یقیناً آپ کے دلوں کی نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل فرمایا۔بعض ایسے بھی ہیں جو بالکل لامذہب تھے، اللہ کے فضل سے احمدیت کو قبول کیا۔بعض عیسائیت میں سے آئے اور احمدیت یعنی حقیقی (دین) کو قبول کیا۔اور بعض مسلمانوں میں سے آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے امام مہدی کو قبول کیا۔اب آپ کا فخر نہ کسی قبیلہ کی حیثیت میں ہے اور نہ کسی امارت یا غربت میں ہے۔اب آپ کا فخر صرف احمدی ہونے میں ہے۔اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہے۔ہم سب احمدی ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں ہم سب احمدی ہیں اور احمدی ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں۔اور اسی جذبہ کے تحت ہم نے معاشرہ میں اپنی زندگیاں بسر کرنی ہیں اور اسی جذبہ کے تحت جماعت احمدیہ نے جو علم اٹھایا ہوا ہے اس کو بلند کرنا ہے۔پس اب آپ نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اور حقیقی (دین) کو پہچاننے کے بعد اللہ کی عبادت کرنی ہے اور اسی کے حضور جھکتا ہے اور ہمیشہ اسی کی عبادت کرنی ہے اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنی ہے۔حضور نے فرمایا: یقینا آپ کے دلوں میں شرافت تھی ، ایک نور تھا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو موقع دیا کہ آپ نے احمدیت کو قبول کیا۔اب اس کو نکھارنا، آگے بڑھانا آپ کا کام ہے۔اللہ آپ کو اس کی توفیق دے۔حضور ايده الله تعالیٰ پورٹونووو پھنچے۔اس ریجن کی مختلف جماعتوں سے آئے ھوئے احباب جماعت کا تعارف حضور سے کروایا گیا۔تعارف کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت سے مخاطب ہو کر فرمایا: اس وقت میں چند الفاظ آپ سے کہوں گا۔آپ لوگوں کو اس وقت یہاں دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہو رہی