مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 132
مشعل راه جلد پنجم 132, ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مختلف سورتوں میں۔میں ایک دو اور مثالیں پیش کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے:- خُذِ الْعَفْوَ وَأَمُرُ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (سورة الاعراف: ۲۰۰ ) یعنی عفو اختیار کر ، معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔یہاں فرمایا معاف کرنے کا خلق اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو اگر کسی سے زیادتی کی بات دیکھو تو درگزر کرو۔فور أغصہ چڑھا کر لڑنے بھڑنے پر تیار نہ ہو جایا کرو اور ساتھ یہ بھی کہ جو زیادتی کرنے والا ہے اس کو بھی آرام سے سمجھاؤ کہ دیکھو تم نے ابھی جو باتیں کی ہیں مناسب نہیں ہیں اور اگر وہ باز نہ آئے تو وہ جاہل شخص ہے، تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ پھر ایک طرف ہو جاؤ چھوڑ دو اس جگہ کو اور اس کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دو۔دیکھیں کہ یہ کتنا پیار حکم ہے اگر کسی طرح عفوا ختیار کیا جائے تو سوال ہی نہیں ہے کہ معاشرے میں کوئی فتنہ وفساد کی صورت پیدا ہو۔لیکن یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو پھر فتنہ پیدا کرنے والے اور فساد کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی، وہ شرفاء کا جینا حرام کر دیں گے۔اور شریف آدمی پرے ہٹ جائے گا۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ فساد کرنے والے معاشرے میں رہیں اور فساد بھی کرتے رہیں، ان کی اصلاح بھی تو ہونی چاہیے اگر تمہارا معاف کرنا ان کو راس نہیں آتا تو پھر ان کی اصلاح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بھی چھوڑ نہیں ہے دوسری جگہ حکم فرمایا ہے کہ : - وَجَزَا وُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ ( سورة الشوری: ۴۱) الظَّلِمِينَ ) بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مد نظر رکھے اس کا بدلہ دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوتا ہے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اگر معاف کرنے سے اصلاح ہوسکتی ہے تو معاف کر دیں اب ہر کوئی تو بدی کا بدلہ نہیں لے سکتا کیونکہ اگر یہ دیکھے کہ فلاں شخص کی اصلاح نہیں ہورہی باز نہیں آرہا تو خود ہی اگر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی۔تو پھر تو اور فتنہ و فساد معاشرے میں پیدا ہو جائے گا۔یہ تو قانون کو ہاتھ میں لینے والی باتیں ہو جائیں گی۔اس کی وجہ سے ہر طرف لاقانونیت پھیل جائے گی۔اس کے لئے بہر حال ملکی قانون کا سہارا لینا ہوگا، قانون پھر خود ہی ایسے لوگوں سے نبٹ لیتا ہے۔اور اکثر دیکھا گیا ہے