مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 130

مشعل راه جلد پنجم 130 * ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:- الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِى السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران: ۱۳۵ ) وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ”معاشرے میں جب برائیوں کا احساس مٹ جائے تو ایسے معاشرے میں رہنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہوتا ہے اور اپنے نفس کے بارے میں ، اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے اور دوسرے کی غلطی کو ذرا بھی معاف نہیں کرنا چاہتا، چنانچہ دیکھ لیں ، آج کل کے معاشرے میں کسی سے ذراسی غلطی سرزد ہو جائے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے چاہے اپنے کسی قریبی عزیز سے ہی ہو۔اور بعض لوگ کبھی بھی اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اور اسی وجہ سے پھر خاوند بیوی کے جھگڑے، بہن بھائیوں کے جھگڑے، ہمسایوں کے جھگڑے، کاروبار میں حصہ داروں کے جھگڑے، زمینداروں کے جھگڑے ہوتے ہیں۔حتی کہ بعض دفعہ راہ چلتے نہ جان نہ پہچان ذراسی بات پہ جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک را بگیر کا کندھارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ٹکرا گیا، کسی پر پاؤں پڑ گیا تو فور دوسرا آنکھیں سرخ کر کے کوئی نہ کوئی سخت بات اس سے کہہ دیتا ہے۔پھر دوسرا بھی کیونکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہے، اس میں بھی برداشت نہیں ہے، وہ بھی اسی طرح کے الفاظ الٹا کے اس کو جواب دیتا ہے۔اور بعض دفعہ پھر بات بڑھتے بڑھتے سر پھٹول اور خون خرابہ شروع ہو جاتا ہے۔بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے پھر بچے کھیلتے کھیلتے لڑ پڑیں تو بڑے بھی بلا وجہ بیچ میں کود پڑتے ہیں اور پھر وہ حشر ایک دوسرے کا ہورہا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔اور اس معاشرے کی بے صبری اور معاف نہ کرنے کا اثر غیر محسوس طریق پر بچوں پر بھی ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں کسی کالم نویس نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایک باپ نے یعنی اس کے دوست نے اپنے ہتھیار صرف اس لئے بیچ دیئے کہ محلے میں بچوں کی لڑائی میں اس کا دس گیارہ سال کا بچہ اپنے ہم عمر سے لڑائی