مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 127

127 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم نہیں پوچھا تو اس وقت تک فائدہ اٹھاتے رہے۔یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔اور اگر کبھی مرکز پوچھ لے تو کہہ دیا کہ ہم نے یہ رقم ادا کرنی تھی مگر بہانے بازی کی کہ یہ ہو گیا اس لئے ادا نہیں کر سکے۔تو غلط بیانی اور خیانت دونوں کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔شیطان چونکہ انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے چاہئیں اور ان سے بچنا چاہیے۔اپنے بھائیوں کے کام آؤ ، ان کے حقوق ادا کرو پھر یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے کام آؤ، ان کے حقوق ادا کرو۔پھر یہ بھی یا درکھو کہ نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہو، نظام کی پوری پابندی کرو۔کسی بات پر اعتراض پیدا ہوتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ اعتراض انسان کو بہت دور تک لے جاتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ عہدے داروں سے بڑھ کر نظام تک اور پھر نظام سے بڑھ کر خلافت تک یہ اعتراض چلے جاتے ہیں۔اس لئے اگر یہ کرو گے تو یہ بھی خیانت ہے۔احمدی کی پہچان تو یہ ہونی چاہیے کہ قرض اتارنے میں جلدی کریں پھر بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں۔اور بعض لوگ تو عادی قرض لینے والے ہوتے ہیں۔پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ ہم یہ قرض واپس کر سکیں۔لیکن پھر بھی قرض لیتے چلے جاتے ہیں کہ جب کوئی پوچھے گا کہہ دیں گے کہ ہمارے پاس تو وسائل ہی نہیں ، ہم تو دے ہی نہیں سکتے۔اپنے اخراجات پر کنٹرول ہی کوئی نہیں ہوتا۔جتنی چادر ہے اتنا پاؤں نہیں پھیلاتے اصل میں نیت یہی ہوتی ہے پہلے ہی کہ ہم نے کون سا دینا ہے۔بے شرموں کی طرح جواب دے دیں گے۔یہاں جو قرض دینے والے ہیں ان کو بھی بتا دوں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں جھگڑے ہوں اور امور عامہ میں اور جماعت میں اور خلیفہ وقت کے پاس کیس بھجوائیں کہ ہمارے پیسے دلوائیں تو پہلے ہی سوچ سمجھ کر ، جائزہ لے کر ایسے لوگوں کو قرض دیا کریں۔یا تو اس نیت سے دیں کہ ٹھیک ہے اگر نہ بھی واپس ملاتو کوئی حرج نہیں۔یا پھر اچھی طرح جائزہ لے لیا کریں کہ اس کی اتنی استعداد بھی ہے، قرض واپس کر سکتا ہے کہ نہیں۔تو احمدی کی پہچان تو یہ ہونی چاہیے کہ ایک تو قرض اتارنے میں جلدی کریں، دوسرے قرض دینے والے کے احسان مند ہوں کہ وہ ضرورت کے وقت ان کے کام آیا۔