مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 99
99 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم کی امداد کی جائے ایسے لوگوں کو پیار سے بھی سمجھایا جا سکتا ہے اور پھر اگر مدد نہیں کرنی تھی تو درخواست دوبارہ لکھوانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔تو یہ چیزیں ایسی ہیں کہ بلا وجہ عہدیدار کے لئے لوگوں کے دلوں میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔امراء ہوں ،صدر ان ہوں ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر جماعتوں میں متعین کئے گئے ہیں اور اس لحاظ سے انہیں ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن مرگا نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجت مندوں ، ناداروں اور غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔( جامع ترمذی ابواب الاحکام، باب فی امام الرعية ) حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہؓ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔تو جماعتی نظام جو ہے وہ اس لئے مقرر کیا گیا ہے۔پھر حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں بھی تم ہو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔اگر کوئی بُرا کام کر بیٹھو تو اس کے بعد نیک کام کرنے کی کوشش کرو۔یہ نیکی بدی کو مٹادے گی اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔(جامع ترمذی ابواب البر والصلۃ ، باب فی ما معاشرۃ الناس) ابو بردہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسی اور معاذ بن جبل کو یمن کی طرف والی بنا کر بھیجا آپ نے ہر ایک کو ایک ایک حصہ کا والی مقرر کر کے بھیجا ( یمن کے دوحصے تھے۔) پھر فرمایا :- آسانی پیدا کرنا مشکلیں پیدا نہ کرنا۔محبت اور خوشی پھیلانا اور نفرت نہ پہنے دینا۔( بخاری کتاب المغازی، باب بعث ابی موسی و معاذ الی الیمن) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس کوٹھڑی میں فرمایا :- یا اللہ ! جو کوئی میری امت کا حاکم ہو پھر وہ اس پر سختی کرے تو تو بھی ان پر سختی کرنا اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ اس پر نرمی کرے تو تو بھی اس سے نرمی فرمانا۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ ، باب فضيلة الامام العادل۔۔۔۔۔